اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 308 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 308

308 نے آکر کہا افسوس تمہارا دوست پاگل ہو گیا اور کہتا ہے مجھ پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔حضرت ابو بکر فرماتے ہیں کہ وہ لیٹے بھی نہیں اور فورا چادر سنبھال کر بیٹھ گئے اور رسول کریم ہونے کے گھر پہنچے اور کہنے لگے کہ میں نے سُنا ہے کہ آپ پر فرشتے نازل ہوتے ہیں۔کیا یہ درست ہے؟ حضرت ابو بکر چونکہ آنحضرت ﷺ کے گہرے دوست تھے۔آپ کو یہ خیال تھا کہ کہیں ان کو ٹھوکر نہ لگ جائے آپ ان کو تسلی سے بتانا چاہتے تھے لیکن حضرت ابو بکڑ نے آپ کو قسم دے کر کہا آپ صاف بتا ئیں۔آپ نے کہا درست ہے۔حضرت ابو بکر صدیق نے کہا پس میرے ایمان کے گواہ رہیں اور کہنے لگے کہ آپ مجھ کو دلیلیں دے کر میرا ثواب کیوں کم کرتے ہیں۔یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے محمد رسول اللہ والے کو دیکھا یعنی یہی دلیل خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح لکھنے موعود علیہ السلام کو دی۔آپ کے دعوئی سے پہلےمحمد حسین بٹالوی نے اپنے ایک رسالہ میں براہین احمدیہ کیا کے بعد حضرت صاحب کی اس قدر تعریف لکھی ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔وہ اپنے رسالہ میں لکھتا ہے کہ یہ شخص ایسا ولی ہے کہ اس نے جو خدمات دین کی کی ہیں تیرہ سو سال میں کسی نے نہیں کیں۔حالانکہ دیکھو اس تیرہ سوسال میں بڑے بڑے صلحاء، فضلاء، اور اولیا، لوگ گزرے ہیں اس کی نظر میں ان سب سے بڑھ کر حضرت صاحب تھے لیکن دعوئی کے بعد اُس نے جو مخالفت کی ہے اس میں سب سے بڑھ کر رہا۔لیکن سوال تو یہ ہے کہ دھوئی سے پہلی زندگی دیکھتے ہیں بعد میں تو رسول کریم پالنے کو بھی دشمن نے بہت بُرا بھلا کہا لیکن بعد کی باتیں دشمنی کی ہوتی ہیں گواہی تو دشمنی سے پہلے کی ہوتی ہے۔یہ تینوں باتیں ہیں جن میں قرآن مجید ہمارے ساتھ ہے۔ایک لطیفہ ہے میاں نظام الدین صاحب ایک سادہ لوح، نیک اور متقی آدمی تھے۔جن لوگوں نے ان کو دیکھا ہے وہ جانتے ہیں۔میں چھوٹا بچہ تھا اُن کو چائے کی بہت عادت تھی۔وہ کیا کرتے کہ چائے کی خشک پتی منہ میں رکھ لیتے اور پھر جب پانی ملتا تو گرم پانی اوپر سے پی لیتے۔وہ محمد حسین بٹالوی کے دوست تھے اور حضرت صاحب کے بھی۔محمد حسین نے اُن سے کہا حضرت صاحب نے تو ایسا دعویٰ کیا ہے تو ان کو یقین نہ آیا۔کہنے لگے کہ مرزا صاحب تو بہت نیک آدمی ہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے اور وہ حضرت صاحب کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے سُنا ہے کہ آپ کہتے ہیں کہ عیسے فوت ہو گئے ہیں۔حضرت صاحب نے فرمایا کہ قرآن میں اس طرح ہے۔وہ کہنے لگے کہ قرآن میں تو لکھا ہے وہ زندہ ہیں۔حضرت صاحب نے کہا قرآن ہمارا حاکم ہے اگر آپ قرآن سے ایک آیت بھی لے آئیں تو ہم مان لیں گے کہ حضرت عیسے زندہ ہیں