اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 310
310 باپ کے پاس گیا بادشاہ نے پھر سپاہی کو بلا یا کہ تم نے ہمارے لڑکے کو وہ تلوار نہیں دی۔سپاہی نے کہا حضور بات یہ ہے کہ تلوار تو وہی ہے لیکن ان کو چلانی نہیں آتی۔تو بات یہ ہے کہ چلانے والا تو سپاہی تھا تلوار کی اس میں کیا خوبی ہے۔پس اسی طرح دیکھو کہ قرآن ایک تلوار ہے۔یہی قرآن مولویوں کے ہاتھ میں مُردہ تھا۔یہی قرآن ہمارے ہاتھ میں تلوار ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں قرآن کی تلوار چلانی سکھائی اب اس تلوار کے ہوتے ہوئے فائدہ نہ اٹھاؤ تو تمہارا اپنا قصور ہے۔تمہیں اپنے نفسوں پر غور کرنا چاہیئے کہ احمدی ہو کر تم نے کیا فائدہ اٹھایا۔لاکھوں روپیہ خرچ کر کے کوئی نتیجہ نہ نکلے تو کس قد رافسوس کی بات ہے۔ایک جلسہ ہی کو دیکھو ا کثر ہمارے گاؤں کی عورتیں کہتی ہیں ہم جلسہ کھانے چلی ہیں۔کیا یہی فرض ہے۔اور اس سردی کے موسم میں بڑی بڑی تکلیفیں اُٹھا کر یہاں آتی ہو، اُن ریلوں میں سفر کرتی ہو جن میں دم گھٹتا ہے، یہاں آکر کھوری پر سوتی ہو، پکی دال کھاتی ہو یہ سب تکلیفیں اٹھاتی ہو، اگر یہ تین دن تین سو ساٹھ دن کے لئے بیج بن کر نالہ کا کام نہیں دیتے تو بہت افسوس کا مقام ہے اور واقعی تم ان تین دنوں میں معرفت کا بیج لے کر تین سو ساٹھ دن میں ہوتی ہو تو خدا کی نصرت اور مدد تم کو مل گئی۔جب خدا کی نصرت اور مد دل گئی تو سب کچھ پل گیا۔تو پھر جو تکلیفیں تم اُٹھا کر آتی ہو تکلیفیں نہیں بلکہ آرام ہیں، دال نہیں کھاتی ہو بلکہ سونا کھاتی ہوں، تم کسیر پر نہیں سوتیں بلکہ گرمیلوں پر سوتی ہو، تم اعلیٰ ریلوں پر سفر کرتی ہولیکن یہ سب اسی حالت میں ہو سکتا ہے جب کچھ فائدہ اٹھاؤ۔دیکھو ایک ہی چیز ہوتی ہے ایک اُس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور ایک نقصان۔مثلاً ایک سالن ہوتا ہے ایک کھا کر اُس سے طاقت حاصل کرتا ہے اور دوسرا اُسی سالن کو کھا کر پیٹ پکڑ کر بیٹھ جاتا ہے۔دیکھو وہی انگور اور ا مرود جو دل اور دماغ کو راحت دیتے ہیں ایک کے اندر خون بن جاتے ہیں اور دوسرے کے اندر ہیضہ کے جراثیم۔دیکھو ایک گھاس ہے بکری کھاتی ہے دودھ دیتی ہے۔وہی گھاس بکرا کھاتا ہے بھینسا کھاتا ہے بیل کھاتا ہے۔وہی گھاس پیشاب اور گوبر بن کر خارج ہو جاتی ہے۔بیشک قرآن اعلیٰ ہے مگر جیسی تمہارے اندرمشین ہوگی ویسا ہی تمہارے اندر کام کرے گی۔دیکھو جیسا بکری اور بکرا ایک ہی گھاس کھاتے ہیں ایک کے اندر دودھ کی مشین ہے وہی گھاس دودھ بن جاتا ہے دوسرے کے اندر صرف پاخانہ کی مشین ہے وہ پاخانہ بن کر خارج ہو جاتا ہے۔پس اگر تمہارے دل کے اندر نیکی اور تقولٰی ہے تو تمہارے اندر روحانی دُودھ بن جائے گا اور جس سے تم دنیا کی مائیں بن جاؤ گی۔اور اگر تم میں نیکی اور تقویٰ نہیں تو یہ اعلیٰ سے