اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 292
292 صلى الله گے ( اگر ہجرت کی ضرورت پڑ جائے یا کسی کو دین کی خدمت کے لئے کسی دوسرے علاقے میں بُو دو باش رکھنی پڑے ) رسول کریم کے کے زمانہ میں ایک دفعہ جانا پڑا اور میں ہزار مسلمان گئے تین مسلمان نہ گئے۔جو مسلمان نہ گئے وہ بہت مالدار تھے۔اُن کو یہ خیال تھا کہ ہمارے پاس بار برداری وغیرہ سب کچھ ہے ہم پیچھے جا شامل ہوں گے اور وہ اسی سال کے گھمنڈ میں نہ گئے۔حضور علیہ السلام کی عادت تھی کہ آپ ٹھہر تے ہوئے جایا کرتے تھے۔اس دفعہ آپ نے شہر کے قریب ڈیرہ نہ لگایا اور چلے گئے اور جب وہ اپنے گھروں سے پیچھے نکلے اور آپ کو نہ پایا۔راستہ میں خطرہ تھا آخر واپس آنا پڑا۔اللہ تعالے کو اُن کا فعل پسند نہ آیا اور پہچاس دن کی سزا ان کے لئے مقرر کی کہ کوئی اُن سے کلام نہ کرے۔نوکر چاکر اور بیوی بچے اور کسی مسلمان کو اجازت نہ تھی کہ اُن سے کلام کرے۔ایک مرد نے تو خود اپنی بیوی کو اس کی ماں کے گھر بھیج دیا کہ ایسانہ ہوئیں بھول جاؤں اور اس سے کلام کرلوں۔ایک شخص کو بولنے کی زیادہ عادت تھی۔وہ کہتے ہیں کہ میں سب سے بولتا اور کوئی مجھے جواب نہ دیتا۔ایک روز میں اپنے چا زاد بھائی کے پاس گیا وہ اپنے باغ میں بیٹھا ہوا تھا اُسے کہا اے میرے بھائی میرا کھانا اور میرا بیٹھنا ایک ہے اور تو میرا ہمراز ہے۔کیا میں منافق ہوں ؟ مطلب یہ تھا کہ اس کے منہ سے سن لوں کہ میں مومن ہوں یا منافق لیکن اُس نے کوئی جواب نہ دیا تو آسمان کی طرف منہ اُٹھا کر کہا اللہ اور اُس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔جب میں نے یہ رنگ دیکھا تو دل میں یہ کہتا تھا کہ زمین پھٹ جائے اور میں سما جاؤں۔میری آنکھوں کے سامنے اتنا اندھیرا ہوگیا کہ مجھ کو اس باغ کے دروازے نظر نہیں آتے تھے اور میں دیوار پھاند کر باہر آیا۔میں بازار میں سے گزر رہا تھا تو ایک شخص نے میری طرف اشارہ کر کے ایک دوسرے شخص کو بتایا کہ یہ ہیں۔اُس آدمی نے مجھے ایک خط دیا جب دیکھا تو وہ خط ایک بادشاہ کا تھا جس میں لکھا تھا سنا ہے کہ محمد (ﷺ) نے تمھاری عزت کا کوئی پاس نہیں کیا تم میرے پاس چلے آؤ۔تب میں سمجھا یہ شیطان ہے اور مجھ کو دھوکا دینا چاہتا ہے۔میں نے اُس آدمی کو کہا میرے پیچھے چلے آؤ اور جاتے جاتے جب میں ایک تنور کے پاس پہنچا تو وہ خط میں نے تنور میں ڈال دیا۔اُس کو کہا جا اپنے بادشاہ کو کہ یہ تیرے خط کا جواب ہے۔میں روز رسول کریم ﷺ کی خدمت میں جاتا اور سلام کر کے حضور کامنہ دیکھتا شاید آہستہ سے جواب دیا ہو اور چلا جاتا اور تھوڑی دور جا کر پھر واپس آتا کہ شاید حضور نے سنا نہ ہو اور پھر سلام کر کے مُنہ دیکھتا کہ شاید ہونٹ ہلیں اور آہستہ سے جواب دیتے ہوں۔غرض با وجود زمین وسیع ہونے