اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 291 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 291

291 بادشاہ نے کہا اب بھی احمدیت کو چھوڑ دو۔علماء پتھر مارتے تھے۔آپ کے مرید ہتھکڑیاں دیکھ کر روتے تو آپ فرماتے یہ سونے کے کنگن ہیں۔ایک ہندوستان کا تاجر جو اُس وقت وہاں موجود تھا اور وہ اب احمدی ہے وہ کہتا ہے کہ میں نے بھی کئی پتھر مارے تھے۔خون بہہ رہا تھا اور آپ یہ کہتے جاتے تھے کہ میری قوم نادانی سے یہ کر رہی ہے۔لوگ شکاری کتوں کی طرح لپک رہے ہیں، ہڈیاں پتھروں سے چور ہورہی ہیں لیکن آپ ہاتھ اُٹھائے دعا کرتے ہیں۔یہ تھا ایمان ایک احمدی کا۔۔۔۔تو ایمان کسی کے مٹانے سے مٹ نہیں سکتا۔غرض کوئی بھی ایمان کو مٹا نہیں سکتا۔حکومتیں ہوں، رعایا ہوں امیر ہو یا علماء ہوں وہ ہمارے جسم اور جان کو مار سکتے ہیں لیکن ایمان کو خراب نہیں کر سکتے۔تو ہمارا فرض ہے مردوں ہی کا نہیں بلکہ عورتوں کا بھی ویسا ہی فرض ہے کہ سلسلہ کے لئے قربانیوں کے لئے تیار رہیں ایک نہیں بلکہ سینکڑوں مثالیں ایسی ہیں جنہوں نے سلسلہ کے لئے بڑی بڑی تکلیفیں اٹھا ئیں جب تک کہ خدا نے انہیں موت نہیں دی۔اس لئے تمہارا فرض ہے کہ مردوں کے دوش بدوش رہو۔اگر تمہیں دین سے محبت ہے تو ان فتنوں کے زمانے میں میں نے جو سکیم مقرر کی ہے اُس کی پابند رہو۔دیکھو ماں ساری رات بچے کے لئے جاگتی ہے تو کیا وہ کسی پر احسان کرتی ہے؟ تو اگر دین کی محبت ہے تو اس کے لئے ہر ایک قسم کی تکلیف برداشت کرو۔میں سب راز تو آپ کو بتلا نہیں سکتا کیونکہ جرنیل کا کام نہیں کہ ہر ایک راز سپاہیوں کو بتلا دے۔میں نے ساڑھے ستائیس ہزار روپے کی اپیل کی تھی لیکن ہم صرف روپے سے مقابلہ نہیں کر سکتے۔دشمنوں کے پاس ایسے کئی آدمی ہیں جو بڑے معمول ہیں وہ یکمشت ساٹھ ہزار روپے دے سکتے ہیں۔بمبئی میں کئی سوداگر ہیں جو دس دس بیس بیس لاکھ کے مالک ہوں گے۔تو اگر ہم ایک کروڑ روپیہ بھی جمع کر لیں تو تب بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔دین کی خاطر قربانی سادہ زندگی اصل کام ہر احمدی مرد اور احمدی عورت کا قربانی ہے تو ہر ایک عورت مرد سادہ زندگی بسر کرے کیونکہ ہم کو نہیں معلوم ہمیں کیا کیا قربانیاں کرنی پڑیں گی۔دیکھو اگر یہ ہی عادت ڈالیں کہ جو ہوا وہ خرچ کر دیا، حالانکہ قرآن مجید میں صاف حکم ہے کہ اپنے مال میں نہ نکل کرو نہ اسراف تو نتیجہ یہ ہوگا کہ جب دین کے لئے ضرورت ہوگی تو کچھ بھی دینے کے لئے نہ ہوگا۔پس میں یہ کہتا ہوں کہ سادہ زندگی بسر کرو اور محنت کی عادت ڈالو۔اچھے کھانے کھانے والے یا جن کے گھر سامانوں سے بھرے پڑے ہوں وہ کس طرح ہجرت کریں