اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 293

293 کے ہم پر تنگ تھی۔ایک روز صبح کے وقت جب ہمارے گناہوں کی معافی کا حکم نازل ہوا تو بہت سے لوگ خبر دینے کے لئے دوڑے۔ایک شخص بہت ہوشیار تھا وہ ایک چھت پر چڑھ گیا اور چلا یا اے مالک تیرا قصور خدا نے معاف کر دیا (میں اس لئے یہ بتلارہا ہوں کہ مال روک ہو جاتا ہے۔دیکھو غریب لوگ چل پڑے لیکن جو مالدار تھا مال اس کی راہ میں روک ہو گیا ) جو آدمی سب سے پہلے میرے پاس آیا میں نے اس کو ایک جوڑا دیا اور کہا میرے پاس یہی مال ہے باقی سب دولت باغ و زمین چونکہ یہی سامان میرے راستے میں روک ہوئے میں نے عہد کر لیا ہے کہ رسول کریم ﷺ کے سپر د کروں گا۔تو یہی جوڑا میرا مال ہے جو میں آپ کو دیتا ہوں۔اس تاریخی واقعہ سے فائدہ اٹھاؤ اور یہ اقرار کرو ہم کھانے پینے میں سادگی اختیار کریں گی۔ایک کھانا کھائیں گی۔اکثر زمیندار عورتیں بھی کئی قسم کی سبزیاں پکا لیتی ہیں۔ہر احمدی نچہ عورت اقرار کرے کہ لباس سادہ رکھیں گے۔جتنے جوڑے پہلے بناتے تھے آپ کم بنا ئیں گے اور گولہ کناری آئندہ نہ خریدیں گے پہلا نا ہوا منع نہیں۔ڈاکٹر ایسے نسخے تجویز کریں جو ملکی قیمت کے ہوں، کھیل تماشے نہ دیکھیں ، بیاہ شادی میں نقد روپیہ دیں۔یا بالکل تھوڑا روپیہ دیں، رسم و رواج میں مکان کی آرائش پر زیادہ نہ خرچ کریں، اگر کوئی چیز ٹوٹ پھوٹ جائے تو بنا سکتے ہیں۔اس میں بہت سے حکم امراء کے لئے ہیں، کچھ درمیانے لوگوں کے لئے ، کچھ غرباء کے لئے۔جو بچت ہو اس کی جائداد میں بنائی جائیں۔اس طرح اس میں غربا، عورتیں بھی شامل ہو سکتی ہیں۔گاؤں کی عورتیں باہم مل جائیں اور دو دو روپے ملا کر ایک رقم جمع کریں اور دوسو کی کوئی جائداد لے لیں اور کرائے کی جو آمد ہو اس کو آپس میں تقسیم کر لیں۔اگر کسی وقت چندے کی ضرورت ہو تو اس میں سے دے سکتی ہیں۔اگر اسی طرح ہر ایک شخص کچھ نہ کچھ بچا کر اپنی جائداد میں بنانے لگ جائے تو تھوڑے عرصے میں بہت کچھ بنا سکتے ہیں۔پھر جب مالی حالت مضبوط ہو جائے گی تو خدمت دین کا بھی موقع مل جائے گا۔اگر ہزار کازیور کسی جائداد کی صورت میں تبدیل کر لیں تو پانچ روپے ماہوار کم از کم آمد ہو سکتی ہے لیکن میں یہ حکم نہیں دیتا کہ کمزور ابتلاء میں نہ پڑ جائیں کیونکہ حضرت صاحب فرماتے تھے کہ عورت کو زیورات اپنے عزیزوں سے زیادہ پیارے ہوتے ہیں۔تم میں سے اکثر ہیں جن کے زیور تو ہیں لیکن زکوۃ نہیں دیتی ہو۔اسی طرح سے تم ان عذابوں سے بچ جاؤ گی جو ز کو نہ دینے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔اگر تمھارے پاس زیور ہیں تم کو پھر زکوة