اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 280
280 انسان ناکام رہتا ہے۔پھر انکسار اور تواضع ہے۔ہمارے ملک میں تواضع بہت اچھا لفظ رائج ہے مگر اس کے معنے کم لوگ جانتے ہیں۔اگر کوئی کسی کو اچھی طرح روٹی کھلا دے تو کہتے ہیں بھئی بڑی تواضع کی۔یا کوئی حاکم تھانیدار کسی گاؤں میں چلا جائے تو اُس کی خاطر تواضع کرنا بولتے ہیں مگر اصل ترجمہ تواضع کا نہیں جانتے۔ذکر ہے کہ ایک بادشاہ بذات خود بھیس بدل کر شہروں میں پھر ا کرتا۔ایک دن کسی ایسے مقام پر جانکلا جہاں ایک جمعدار پہرہ پر کھڑا تھا اُس نے بادشاہ کو بھی جو بھیس بدلے ہوئے تھا معمولی آدمی سمجھ کر نخوت اور غرور سے گزرنے نہ دیا اور کہا تو جانتا نہیں میرا کیا عہدہ ہے؟ بادشاہ نے پوچھا حضور آپ کا کیا عہدہ ہے۔کیا سپاہی ؟ کہا ذرا اوپر چڑھو۔اُس نے کہا کیا جمعدار؟ کہاہوں۔پھر سپاہی نے پوچھا تو کون ہے تھانیدار؟ بادشاہ نے بھی کہا ذرا اور اوپر بڑھو۔پھر اس نے کہا اور اوپر بڑھو۔سپاہی نے کہا ڈپٹی ؟ اس نے کہا ذرا اور اوپر بڑھو۔اسی طرح سوال و جواب سے بادشاہ کے عہدہ تک پہنچا۔آخر سپاہی نے شرمندہ ہو کر معافی طلب کی تو بعض لوگ تو اضع اور انکسار کرنا نہیں جانتے کسی کو ذرا دنیاوی قد رمل جائے پھر نخوت اور تکبر سے بھر جاتے ہیں۔غرور سے پاؤں زمین پر رکھنا بھول جاتے ہیں مگر نہیں جانتے کہ بڑے لوگ اگر انکسار کریں تو ان کی قدر افزائی ہوتی ہے اور عزت بڑھتی ہے۔دیکھو زار روس کی تباہی قیصر جرمنی کی شکست محض غرور اور نخوت اور انکسار نہ کرنے کے سبب سے ہوئی مگر شاہ جارج پنجم کی بہت بڑی عزت ہے۔رعیت کو اگر انکسار اور تواضع سے پیش آئیں تو ہزار گنا زیادہ عزت ہوتی ہے۔شہنشاہ معظم کی رعایا اُن کے انکسار کے طرز عمل سے قدر کرتی ہے۔بڑے لوگ اگر انکسار کریں تو لوگ اُن کو آنکھوں پر بٹھاتے ہیں۔اُن کی دل و جان سے خدمت کرتے ہیں۔قوم کا امیر اُن کا خادم ہوتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عین اسلام پر عمل درآمد فرماتے ہوئے ایک فارسی شعر لکھا ہے۔منہ کرسی ز بهر ما که ماموریم خدمت را یعنی میرے لئے کرسی مت رکھو کہ میں ایک غریب اور عاجز انسان ہوں۔تو بہت سے فوائد انکسار کرنے اور عاجز بننے میں ہوتے ہیں۔یہ ایک نفس کی اصلاح اور اپنی قدر کروانے کا طریقہ ہے۔پھر ایک قابل قدر چیز قربانی ہے۔اگر اپنے حقوق سے فائدہ لینا چاہتی ہو تو قربانیاں کر نفس کی