اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 279 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 279

279 ایک عورت بے تابی سے رورہی تھی۔آپ نے دریافت فرمایا کیوں روتی ہے؟ عرض کیا گیا حضور اس کا بچہ فوت ہو گیا ہے۔آپ نے اُس عورت کے پاس جا کر فرمایا صبر کرو۔وہ جواب دیتی ہے کہ جس کے دل کو لگے وہی جانے۔اے شخص (اسنے رسول کریم کو پہچان نہ تھا) تیرا بھی کوئی بچہ مرتا تو جانتا کتنا دکھ ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا میرے تو کئی بچے مر گئے ہیں۔پیچھے جب اس کو کسی نے بتایا کہ آپ رسول کریم مانتے تھے تو وہ عورت دوڑی آئی کہ یارسول اللہ ہے میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا اب صبر کرتی ہوں معاف فرما ئیں۔آپ نے فرمایا اب کیا صبر ہے! اصبر تو پہلے کرنا تھا رو دھو کر صبر کرتا ہے فائدہ ہے۔تو تم بھی اگر صحابیات کی طرح صبر کرنے کی مشق کرو گی تب کچھ ملکی معاملات اور حقوق کو استعمال کرنے کی قابلیت پیدا کرو گی۔ورنہ جو آ دمی ذراذرا بات میں صبر اور تحمل برداشت کی عادت نہیں رکھتا وہ ملکی معاملات میں کیا ہمت دکھلا سکتا ہے۔تمھا راد ماغ غم والم وغیرہ سے خالی ہو گا تب کچھ کام کر سکو گی ورنہ یوں ہی زبانی واویلا بے کار ہے۔پھر جرآت ہے یا درکھو انسان سے جرآت سب کام کرواتی ہے۔اگر دل میں جرات ہو تو انسان بہادری سے کام کر سکتا ہے ورنہ کچھ نہیں کر سکتا۔اپنی وکی جرات جس طرح کام کروا سکتی ہے کسی دوسرے کی امداد سے وہ کام ہرگز نہیں ہوسکتا۔ایک واقعہ کشمیریوں کا لکھا ہے کہ کشمیری قوم کے لوگ ایک فوج میں بھرتی ہوئے۔جب جنگ ہونے لگی جرنیل نے حکم دیا کہ فلاں جگہ فوج کھڑی ہو تو ایک دو سپاری افسر کے پاس جا کر عرض کرنے لگے کہ حضور ہمارے ساتھ کوئی پہرہ دار ہونا چاہیئے جو ہماری حفاظت کرے۔افسر نے سمجھ لیا کہ یہ بزدل ہیں چنانچہ آب کشمیریوں کو فوج میں بھرتی نہیں کیا جاتا۔مگر ہمارے ایک بزرگ بادشاہ ہوئے ہیں انہوں نے چیونٹی سے سبق لیا کہ وہ کئی بار اُن کے سامنے دیوار سے گرمی اور پھر چڑھی۔آخر پوری دیوار طے کر کے کامیاب ہوگئی تو اس سے بادشاہ نے سبق لیا اور کئی بار ہارنے پر آخر فاتح شہنشاہ بن گئے۔یہ جرآت اور ہمت تھی۔کہتے ہیں رستم ایک بار کسی پہلوان سے شکست کھا کر نیچے گر پڑا مگر اس کی بہادری اور ہمت کا رعب مشہور تھا۔تو اُس نے سوچا کی آؤ ہمت کر کے چھوٹ جاؤں۔چنانچہ جبکہ دشمن اس کی پیٹھ پر سوار تھا اور گردن وہائے بیٹا تھا اس نے جرآت کر کے اسے زور کی آواز سے ڈرایا کہ رستم آ گیا۔رستم آ گیا تو دشمن بہ نام سنکر سہم گیا اور بھاگ گیا۔اپنے نام کی آڑ لے کر رستم زندہ و سلامت رہ گیا۔تو جرآت اور ہمت کے بغیر بھی