اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 248 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 248

248 یا درکھو یہ تمھارا تقدیر کا مسئلہ غلط ہے۔اپنی کوتاہیوں کے صلہ میں جو بد انجامیاں ظاہر ہوتی ہیں اُن کا نام تم تقدیر رکھ کر خدا تعالیٰ پر الزام رکھتی ہو۔یہ نہیں خیال کرتیں کہ خدا جو اتنا بڑ از مین و آسمان کا بادشاہ ہے اُس کو کیا ضرورت ہے تم میں سے کسی کو دُکھ دے کسی کو سکھ کسی کوڑ لائے کسی کو ہنسائے اُس کا اِس میں کیا فائدہ ہے۔کیا کوئی ماں پسند کرتی ہے کہ ایک بیٹا جئے ایک مرجائے ، ایک اندھا ہوا ایک سوجا کھا، ایک بیمار ہو ایک تندرست؟ یہ جاہلانہ خیال ہے۔ہماری قوم کی بہت سی تباہی یہی تقدیر کا مسئلہ ہے۔اسی مسئلہ کی طفیل ہماری کوششیں ضائع ہو گئیں ، ہماری محنتیں برباد ہو گئیں اور ہماری تمام سرگرمیاں بے شمر رہ گئیں۔تم خوب یاد رکھو کہ یہ تقدیری مسئلہ بالکل غلط ہے۔اللہ تعالی نے قانون بنائے ہیں جو ان پرسید ھے چلے انہوں نے کامیابی پائی جو الٹے چلے وہ نا کام رہ گئے۔مثلاً یہی جلسہ ہے جس میں کئی پیچھے بیٹھی ہیں کئی آگے۔لیکن کیا اس طرح ان کو خدا نے بھلایا ہے؟ مانا کہ منتظمات کو بھی ایک حد تک اس میں دخل ہو گا مگر پھر بھی پہلے اور پیچھے کا فرق ضرور ہے۔پہلے آنے والی کو اچھی اور قریب جگہ مل گئی پیچھے آنے والی کو دور اِس میں تقدیر کا کیا دخل ہے۔حضرت عمر کے زمانہ میں ایک دفعہ طاعون کے موقع پر لوگوں نے کہا یہاں سے چلے جانا چاہیے حضرت عمر کی بھی یہی رائے تھی مگر آجکل کے مسئلہ کے مطابق اُس وقت بھی چند لوگ ایسے تھے جنہوں نے اختلاف کیا اور اسی تقدیر کو پیش کر کے کہا ا تَفِرُّونَ مِنْ قَدَرِ اللهِ یعنی کیا تم تقدیر سے بھاگتے ہو؟ مگر اس کا جواب حضرت عمرؓ نے کیا ہی لطیف دیا۔فرمایا اَفِرُّ مِنْ قَدَرِ اللَّهِ إِلَى قَدَرِ اللَّهِ سوچوا گر یہ تقدیر ہے کہ ایک کیڑے کا کاٹنے سے آدمی بیمار ہو تو یہ بھی تقدیر ہے کہ ڈاکٹر دوائی دے اور وہ اچھا ہو جائے۔تم ایک تقدیر پر ایمان لاتی ہو دوسری پر نہیں۔تمہاری مثال اُس میراثی کی سی ہے جو کھتو تھا۔بیوی معاش کے لئے مجبور کرتی تھی اور وہ عذر کرتا تھا کہ کوئی کام ہی نہیں ملتا۔آخر ایک دفعہ فوج میں بھرتی ہوئی بیوی نے کہا کہ تو اس میں ہی شامل ہو جا۔کہنے لگا شاید تو میری موت کی خواہشمند ہے۔کیونکہ بھرتی جنگ کے لئے ہے اور جنگ میں موت ہی ہے۔بیوی نے اس کو سبق دینے کے لئے چوکی میں دانے پیسے جن میں کچھ ثابت رہے کچھ پس گئے اور خاوند سے کہا کہ دیکھے سارے ہی دانے چکی میں پس نہیں جاتے ثابت بھی تو رہتے ہیں۔پس تو نے کیونکر کہا جنگ میں سب کی