اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 247

247 کیونکہ وہ بجھتی ہے کہ اس علیحدگی میں اُس کے بڑھنے اور ترقی کرنے کے راستے نکلیں گے۔وہ پیٹ میں کوئی ترقی نہیں کر سکتا تھا۔پس خدا تعالیٰ بھی تمہارے رشتہ داروں کو اسی لئے جدا کرتا ہے کہ تا وہ ہمیشہ کے لئے ترقی کر کے تم سے آملیں۔عَلَّمَ آدَمَ الَا سُمَاءَ میں اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو فرمایا ہے کہ اس تفرقے میں ( جو تمہارے نزدیک تفرقہ ہے ) مدرسہ ہے اور اس طرح الگ کر کے علوم سے بہرہ ور کرنا مقصود ہے۔دیکھو اگر بہن بھائی ماں باپ سب اکٹھے ہوں تو تعلیم کیونکہ پوری : دمکتی ہے۔لیکن سکول علیحد ہ ہوتا ہے تو تعلیم کا انتظام بھی مکمل ہو سکتا ہے۔ایک لڑکا جو خاص طور پر سکول بھیجا جائے خیال کرتا ہے کہ میں تمام رشتہ داروں سے محض تعلیمی فرض سے علیحد ہ کیا گیا ہوں۔اس طرح پڑھنے اور پڑھانے والے دونوں کو اس فرض کا احساس رہتا ہے اور غرض بھی پوری ہوتی ہے۔اکٹھا رہ کر یہ احساس ناممکن ہے پس عَلَّمَ آدَمَ الَّا سَمَاءَ کا یہ مطلب ہوا کہ ہم نے تعلیم کے تمام پہلوؤں یا شعبوں کو مکمل کرنے کیلئے خلیفہ بنایا کہ تاو ہ اس طرح لوگوں کو علیحدہ کر کے تعلیم دے اور خدا تعالیٰ کی صفتوں کا علم مخلوق کو دے۔پس یہ علیحد گی زحمت نہیں رحمت ہے۔روحانی بیماروں سے علیحدگی کے بغیر خدا کو پالیتا تمہارے لئے ناممکن تھا۔اب علیحد ہ ہو کر تم نے خدا کو پالیا۔تو یہ تم کو نہایت بیش قیمت نعمت مل گئی جس کا جتنا شکر کرو تھوڑا ہے نہ کہ الٹا اُن اقرباء کی جدائیوں پر گھبراؤ یا لغزش دکھاؤ۔میں مگر رنصیحت کرتا ہوں کہ اُن رشتہ داروں سے جن کا روحانی طور پر تم سے قطع تعلق ہو چکا رشتہ داریاں قائم نہ کرو، اُن کے جنازوں وغیرہ میں شرکت نہ کرو، اپنے آپ کو ان تعلقات کی وجہ سے خدا تعالی کے عذاب کے مورد نہ بنو۔اب اس کے بعد میں خدا تعالیٰ کے علم سے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں۔سب سے ضروری چیز خدا کا علم ہے بہت عورتیں سمجھتی ہوں گی کہ ہمیں خدا کا علم ہے مگر نہیں وہ خدا کو نہیں جانتیں۔اگر جانتیں تو اس پر پورا ایمان ہوتا۔نہ جاننے کے سبب سے ہی عورتیں جھٹ ہر کام اور ہر انجام پر تقدیر کولے بیٹھتی ہیں۔یہ ثبوت ہے خُدا کا علم نہ ہونے کا اور اس کی صفات سے بے خبری کا۔