اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 235 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 235

میں کیا ہے۔عورتوں کی ضروریات کا علم عورتوں ہی کے ذریعہ سے ہو سکتا ہے۔جس طرح ہمیں مردوں کی ضروریات کا علم ہوتا ہے عورتوں کو نہیں ہو سکتا۔ہم نہیں جانتے تمہارے دلوں میں کیا ہے تم خود اپنے خیالات کا اظہار کرو اور جو تمہارے دلوں میں ہے اس کو بیان کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ایمان تین قسم کا ہوتا ہے۔ایک بوڑھی عورت کا جواگر کسی پہاڑ کو دیکھتی ہے تو کہتی ہے سبحان اللہ اگر کسی ولی کا حال سنتی ہے تو بھی سبحان اللہ کہتی ہے اگر اس کو کہا جائے کہ فلاں ولی کی بات سے درندے تابع ہو گئے تھے تو وہ اسے بھی مان لے گی۔اُس نے تو ایک بات پکائی ہوئی ہے کہ اللہ میاں کی تو ایسی ہی باتیں ہوتیں ہیں۔حضرت خلیفے اول فرمایا کرتے تھے کہ عوام الناس میں مشہور ہے کہ رسول کریم والے جب معراج کو گئے تو ایک پہاڑ راستے میں آجانے کی وجہ سے راستہ نہ ملا۔آسمان سے آوازوں پر آوازیں آرہی تھیں کہ جلدی آؤ جلدی آؤ۔وہ ادھر اُدھر دوڑتے پھرتے مگر راستے کا کچھ پتہ نہ چلتا آخر ایک جگہ دو فقیر بیٹھے ہوئے ملے جو بھنگ گھوٹ رہے تھے۔اُن سے پوچھا تو انہوں نے کہا ٹھہرو ہمیں بھنگ پینے دو۔حضرت جبرائیل اور رسول کریم و تو جلدی کر رہے تھے لیکن فقیر آرام سے بھنگ پیتے رہے۔آخر انہوں نے اُسے نچوڑ کر اس کے فضلے کا ایک گولہ بنایا اور یا علی کہ کر پہاڑ کو مارا تو پہاڑ پھٹ گیا اور اُن کے گزرنے کے لئے راستہ بن گیا۔ایسے واقعات کو بھی سنگر عورتیں سبحان اللہ کہہ دیتی ہیں، جاہل اور بیوقوف اسے سچ مان لیتے ہیں۔وہ خیال نہیں کرتے کہ اس میں خدا صلى الله اور رسول ”سب کی عزت پر حملہ ہے اور علی کی عزت پر بھی حملہ ہے۔علی کو عزت رسول کریم ﷺ کی وجہ سے نصیب ہوئی تھی۔جب اُن کی بے عزتی کی گئی تو علی کی عزت کس طرح قائم رہ سکتی ہے۔ہماری قوم کو دیکھ لو وجہ ہم پر کسی نے غلبہ پا کر ہمیں اسلام نہیں سکھایا بلکہ ہمارے آباء نے اسلامی ممالک کو فتح کیا اور اسلام کی نو بیوں سے متاثر ہو کر مسلمان ہو گئے۔آج ہم کیوں حضرت علی کی عزت کرتے ہیں محض رسول کریم ﷺ کی وجہ ہے۔ہم اُن پر ایمان نہ لاتے تو علی محض ایک سردار سے زیادہ ہماری نظروں میں علات نہ پاتے۔غرض ایسا جاہلانہ ایمان نہیں رکھنا چاہیئے۔یہ شیر خواروں کا سا ایمان ہے کہ ہر وقت دوسروں کے قبضہ میں ہیں۔دوسرا ایمان فرماتے تھے کہ فلسفیوں کا ہوتا ہے جو ہر بات ن۔شک پیدا کرتے ہیں یہ گویا ذرا بڑے لڑکوں کا سا ایمان ہے جو دوڑتے اور گرتے ہیں۔تیسرا ایمان ولیوں کا ایمان ہے جو گو یا بالغ و عاقل کا سا ایمان ہے کہ نہ وہ دوسرے کے ہاتھ میں ہوتے