اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 212
212 ہے کیونکہ آج اگر ہم بچہ میں کام کرنے کی عادت نہیں ڈالتے ، اچھے اخلاق اُس میں پیدا نہیں کرتے تو اس کا لا ز ما یہ نتیجہ نکلے گا کہ بچہ بڑا ہو کر سخت تکلیف اٹھائے گا اور اُس تکلیف میں ہم خود بھی حصہ دار ہوں گے۔پس ہمیں ابتداء سے ہی بچوں کی تربیت اور اُن میں اعلیٰ اخلاق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔بے شک ہمارے مد نظر یہ بات بھی رہے کہ وہاں کے ملکی حالات کی وجہ سے بعض خصوصیات ان لوگوں کو حاصل ہیں لیکن جس حصہ میں ہماری غلطی اور کوتا ہی ہو اس کی اصلاح ضرور کرنی چاہیئے۔مثلاً ہمارے ملک کے بچوں میں یہ ایک خطر ناک نقص ہوتا ہے کہ ہر ایک الگ الگ چیز لے کر کھانے کی کوشش کرتا ہے اس طرح ایک تو چیز زیادہ خرچ ہوتی ہے دوسرے بچوں میں اسراف کی عادت پیدا ہوتی ہے علاوہ ازیں اُن کے معدے الگ خراب ہوتے ہیں۔مگر علیحدہ کھانے کا ہمارے ملک میں اس حد تک رواج ہے کہ اگر کوئی کسی کی دعوت کرتا ہے تو اُس کے آگے کھانا رکھ کر خود رفو چکر ہو جاتا ہے اور مہمان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا اپنی ہتک سمجھتا ہے۔پھر گھروں میں اس طرح ہوتا ہے کہ عورت خاوند کے آگے دستر خوان بچھا کر اور اس پر کھانا رکھ کر خود اور کام کرنے چلی جاتی ہے اکٹھے بیٹھ کر کھانا نہیں کھاتے۔اگر اکٹھے اور مل کر کھانا کھایا جائے تو بہت سا کھانا ضائع نہ ہو اور انتظام بھی قائم رہے۔اس کے لئے تربیت کی ضرورت ہے لیکچروں سے یہ کام نہیں ہوسکتا۔اس کے لئے ضرورت ہے کہ قوم کے لئے دستور العمل بنایا جائے۔ایک کتاب تیار کی جائے جس میں لکھا جائے کہ عورتوں کو بچوں کی تربیت اس طرح کرنی چاہئے تا کہ عورتیں اسے پڑھ کر اس پر عمل کریں ورنہ یہ کوئی نہیں کر سکتا کہ "افضل" اور "ریویو" کے قائل اپنے پاس رکھ چھوڑے جن کے ان مقامات پر نشان لگے ہوں جہاں تربیت وغیرہ کے متعلق مضامین درج ہوں اور ان کو پڑھ پڑھ کر عمل کرے لیکن اگر ایسی باتیں ایک جگہ جمع ہوں اور ایسی کتاب عورتوں کے کورس میں شامل ہو یا وہ اپنے طور پر پڑھ کر اس پر عمل کریں تو بہت مفید ہو سکتا ہے۔مگر جب تک اس قسم کی کوئی کتاب نہ بنے عورتیں اپنے طور پر ان باتوں پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔اس وقت اتنا تو ہوا ہے کہ ہم نے عورتوں کو تعلیم کی طرف توجہ دلائی ہے اس کے بعد انشاء اللہ تعالے تربیت کی طرف بھی توجہ ہو جائے گی۔تعلیم حاصل کرنے پر انسان سمجھ سکتا ہے کہ اولاد کتنی قیمتی چیز ہے اور اس کی تربیت کرنے کی کتنی ضرورت ہے۔میرا منشاء ہے کہ موجودہ گرلز سکول کو ہائی سکول بنادیا جائے اس کے لئے چندہ جمع ہورہا ہے اور امید ہے کہ تین چار ماہ میں ہم گرلز ہائی سکول کے لئے زمین خریدنے کے قابل ہو