اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 144 of 452

اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 144

144 زیادہ عورتوں پر مہربان نہیں ہو سکتے اور جبکہ ماں بھی بچہ کو رونے پر دودھ دیتی ہے اور خدا بھی بندہ کو بہت سے انعام مانگنے پر دیتا ہے تو مردان سے بڑھ کر مہربان کس طرح ہو سکتے ہیں کہ خود بخو دعورتوں کو امداد دیں۔اس وجہ سے عورتوں ہی کی توجہ اور کوشش مردوں کی توجہ کو اس طرف کھینچے گی تا وہ وقت آجائے کہ عورتیں اس کام میں مردوں کی محتاج نہ رہیں۔ایک دوسرے کا تعاون تو جاری رہے گا مگر مقدار کا لحاظ کیا جائے گا۔اگر سارا کام مرد کریں اور عورتیں کچھ نہ کریں تو عورتوں کے لئے شرم کی بات ہوگی اور اگر سارا کام عور نہیں کریں اور مرد کچھ نہ کریں تو یہ مردوں کے لئے قابل شرم ہو گا اس لئے ایسا وقت نہیں آنا چاہیئے مگر یہ ضرور ہونا چاہئے کہ عورتیں اپنا بوجھ آپ اُٹھا سکیں۔چونکہ اس وقت وہ لوگ بھی بیٹھے ہیں جو سلسلہ کے نظم و نسق سے تعلق رکھتے ہیں اس لئے اُن کو میں اس اہم پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ ابلیسیت نہیں نکل سکتی جب تک علم کی طرف خاص توجہ نہ کی جائے اور وہ اُسی وقت نکلے گی جب ہم عورتوں کی تعلیم کی طرف پوری پوری توجہ کریں گے۔مجھے افسوس کے ساتھ لڑکیوں کے پرائمری سکول کے متعلق یہ معلوم ہوا کہ اس میں ایک سو ساٹھ لڑکیاں پڑھتی ہیں مگر وہ اس مکان میں کس طرح بیٹھ سکتی ہیں جس میں اُن کا سکول ہے سوائے اس کے کہ بلیک ہول کی طرح اس میں بند ہوں۔میں صیغوں کے افسروں کو توجہ دلاتا ہوں کہ عورتوں کی تعلیم کی طرف زیادہ خیال رکھیں اور عورتوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ پورے استقلال سے کام کریں تا کہ نا امیدی اور مایوسی کا جواثر پڑتا ہے وہ دُور ہوکر خدا تعالیٰ کا رحم اور فضل افق سے ظاہر ہو۔اخیر میں میں دعا کرتا ہوں کہ خدا تعالیٰ ہم پر ایسی برکتیں نازل کرے جو دین ودنیا اور عاقبت کے لئے مفید ہوں اور ایسے نتائج ظاہر نہ ہوں جو مضر ہوں بلکہ خدا تعالیٰ کی رضا کا باعث ہوں۔الفضل ۲۱ مارچ ۱۹۲۵ء جلد ۱۲ نمبر ۱۰۴) کیا لڑ کی اپنا ہر والدین کو دے سکتی ہے؟ عورتوں سے مہر معاف کرانے سے پہلے اُن کو مہر دیا جانا ضروری ہے ۲۴۔جولائی ۱۹۲۵ء کو حضرت خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مہر کے متعلق ایک اہم خطبہ ارشاد فرمایا تھا چونکہ عورتیں بالعموم مہر سے تعلق رکھنے والے مسائل سے ناواقف ہوتی ہیں اس لئے واقفیت عامہ کے