اوڑھنی والیوں کے لئے پُھول — Page 145
لئے وہ خطبہ درج ذیل کیا جاتا ہے:۔145 تشہد، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔ابھی مجھے ایک دوست نے ایک رقعہ دیا ہے جس میں یہ سوال کیا گیا ہے کہ ایک عورت جو عاقل اور بالغ ہے وہ اگر یہ چاہتی ہے کہ اُس کے نکاح کے وقت اُس کا مہر دے دیا جائے تا کہ وہ اسے اپنے والدین کو دیدے جو قابل امداد ہیں تو آیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ چونکہ ہمارے ملک میں لڑکیوں کے متعلق والدین کا فائدہ اُٹھانا ایسا عام ہو رہا ہے کہ پنجاب میں پچاس فی صدی کے قریب لوگ یہ کام کرتے ہیں اس لئے میں سمجھتا ہوں کہ میں اس مسئلہ کے متعلق جو میری رائے ہے اور قرآن اور حدیث سے جو کچھ پتہ چلتا ہے وہ اس خطبہ میں بیان کروں۔والدین کی امدادلر کی کی طرف سے یہ ایک موٹی بات ہے اور اسے ہر شخص آسانی کے ساتھ سمجھ سکتا ہے جس میں نہ کسی کو انکار ہے اور نہ اختلاف ہے کہ اگر صدقہ اور خیرات ایک اشد ترین مخالف کو جس کے ساتھ کوئی رشتہ نہ ہو، کوئی خونی تعلق نہ کوئی رھی تعلق نہ ہو دیا جا سکتا ہے تو کوئی وجہ نہیں ہو سکتی کہ عورت والدین کے ساتھ حسن سلوک نہ کرے اور اس روپے کو اشد ترین ضرورتوں کے وقت اُن کو نہ دے اس لئے یہاں یہ سوال نہیں پیدا ہوتا کہ کوئی عورت اپنے ماں باپ کی مدد کر سکتی ہے یا نہیں کیونکہ اس بات میں کسی مذہب والا بھی اختلاف نہیں رکھے گا کہ جس طرح ایک مرد پر ماں باپ کی خدمت فرض ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ جہاں تک اس سے ہو سکے اُن کے ساتھ حسن سلوک کرے، یہ بات نہیں کہ ماں باپ لڑکوں کو تو پالتے ہیں مگر لڑکیوں کو نہیں پالتے۔اور نہ یہ ہے کہ لڑکے تو پیدا ہوتے ہیں اور لڑکیاں آسمان سے گرتی ہیں بلکہ دونوں کو ایک ہی طرح پالتے ہیں اور دونوں پیدا ہی ہوتے ہیں اور دونوں کے لئے انہیں ایک ہی طرح کی تکلیفیں برداشت کرنی پڑتی ہیں اس لئے جس طرح لڑکوں کے لئے فرض ہے کہ ماں باپ سے حسن سلوک کریں اسی طرح لڑکیوں پر بھی فرض ہے کہ وہ اُنکی مدد کریں۔پس یہاں یہ سوال پیدا نہیں ہو سکتا کہ آیا لڑکیوں کے لئے ماں باپ کی امداد کرنا جائز ہے یا نہیں؟