اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 79
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 79 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب تم پر بہت سے حقوق ہیں۔تمہارا باپ جواری تھا۔میں نے چار دفعہ اپنے بھائی کی جائیدا تقسیم کرا کر اُسے دی مگر اس نے چاروں دفعہ جوئے میں برباد کر دی۔گویا نہ صرف یہ کہ اپنی جائیداد دی بلکہ میرے بھائی کی جائیداد بھی لٹا گیا مگر اس کے باوجود اس کی موت کے بعد میں نے اپنی عصمت کی حفاظت کی اور اس کے خاندان کو بطہ نہیں لگایا اور بڑی محنت سے تم لوگوں کی پرورش کی۔آج اس حق کو یاد کرا کر میں تم سے مطالبہ کرتی ہوں یا تو تم جنگ میں فتح حاصل کر کے آنا یا مارے جانا، ناکامی کی حالت میں مجھے واپس آکر منہ نہ دکھانا ورنہ میں تمہیں اپنا یہ حق نہ بخشوں گی۔اس جنگ کی تفصیل ایسی ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے، گویا ہر مسلمان اپنی جان کو میدانِ جنگ میں اس طرح پھینک رہا تھا جس طرح کھیل کے میدان میں فٹبال پھینکا جاتا ہے۔عین دوپہر کے وقت جب معرکہ جنگ نہایت شدت سے ہو رہا تھا تو خنساء آئیں اور انہوں نے دیکھا کہ اس معرکے سے بہادروں کا واپس آنا مشکل ہے۔انہوں نے اس وقت ہاتھ اٹھا کر دعا کی کہ اے خدا میں نے اپنے بچے دین کے لئے قربان کر دیئے ہیں، اب تو ہی ان کی حفاظت کرنے والا ہے۔خدا تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ جنگ فتح ہوگئی اور ان کے بچے بھی زندہ واپس آگئے۔پھر ایک واقعہ کا ذکر اس طرح ہے۔ہندہ کی مثال۔اُن کے خاوند ابوسفیان نے ہمیں سال تک رسول کریم ﷺ سے جنگ کی اور فتح مکہ پر مسلمان ہوئے تو ہندہ بھی رسول کریم ﷺ سے پہلے شدید بغض رکھتی تھیں۔جنگ احد میں حضرت حمزہ کی شہادت کے بعد اس نے ہی ان کے ناک اور کان کٹوائے تھے۔اور بعض روایات میں ہے کہ ان کا کلیجہ نکال کر چبایا تھا۔تو اُحد کی جنگ میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تھے۔اس جنگ میں مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا اور اس طرح مسلمان شہداء کی لاشیں کفار کے رحم و کرم پر تھیں۔تو اُس وقت ہندہ نے ، جیسا کہ کہا، حضرت حمزہ نے ایک خاص آدمی کو مارا تھا ، اس کی لاش کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا اس کا مثلہ کروایا تھا۔وہ ایسی خطرناک دشمن تھیں اسلام کی اور آنحضرت ﷺ کی کہ فتح مکہ کے بعد وہ اور ان کے خاوند ابوسفیان بھی جب ایمان لائے اور ان کے لڑکے حضرت معاویہ بھی ایمان لائے تو پھر وہ لوگ اسلام کے لئے لڑے اور اسلام کی بڑی خدمت کی کہ کایا پلٹ دی آنحضرت ﷺ کی قوت قدسی نے اُن کی۔تو کہتے ہیں کہ ایک جنگ کے موقعہ پر ھر قل کی فوجوں کے سامنے سخت معرکہ درپیش تھا۔مسلمانوں کی تعداد زیادہ سے