اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 78
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 78 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب حملہ کر دیا اُس طرف سے جو محفوظ جگہ تھی اور قلعے کے پھاٹک تک پہنچنے کا موقع ڈھونڈ رہا تھا۔تو حضرت صفیہ نے دیکھ لیا اور حضرت حسان سے کہا کہ اتر کر قتل کر دو ورنہ یہ دشمنوں کو جا کر پستہ دیدے گا۔اور مدینہ کا وہ حصہ کمزور تھا۔حضرت حسان نے معذوری ظاہر کی۔حضرت صفیہ نے خیمے کی ایک چوب اکھاڑ لی اور اُتر کر یہودی کے سر پر اس زور سے ماری کہ اس کا سر پھٹ گیا۔حضرت صفیہ چلی آئیں اور حسان سے کہا کہ اب میں نے اس کو مارا ہے، سر پھٹ گیا، بیہوش پڑا ہے تم جا کر اس کو باندھ دویا کپڑے اتار لو اور اُس کا سرکاٹ کے قلعے کے نیچے پھینک دو تا کہ یہودی مرعوب ہو جائیں۔لیکن یہ کام بھی حضرت صفیہ کو ہی کرنا پڑا، انہوں نے انکار کر دیا۔اور پھر اس طرح یہودیوں کو اس طرف سے حملے کی جرات نہیں ہوئی۔حضرت انس بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن جب لوگ رسول کریم مے سے کچھ دور ہو گئے تو میں نے حضرت عائشہ اور حضرت ام سلیم کو دیکھا کہ یہ دونوں اپنے ہاتھوں اور پاؤں کے کپڑے سمیٹے ہوئے تھیں اور میں ان کے پاؤں دیکھ رہا تھا کہ پانی کی مشقیں اٹھائے ہوئے لا رہی تھیں اور ان لوگوں کو یعنی زخمیوں کو پلا رہی تھیں اور پھر کوٹ جاتیں اور پھر اور مشقیں بھر کر لاتیں اور پلانے لگتیں اُن کو۔تو اس طرح خدمات کیا کرتیں تھیں یہ خواتین بھی جنگوں کے دنوں میں۔ماں کے لئے سب سے بڑی قربانی بچے کی ہوتی ہے ایک روایت حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس طرح بیان فرماتے ہیں کہ ماں کے لئے سب سے بڑی قربانی بچے کی ہوتی ہے مگر میں اس کے لئے بھی ایک عورت کی مثال پیش کرتا ہوں جو پہلے شدید کا فر تھی۔ایرانیوں کے ساتھ ایک جنگ میں مسلمانوں کو سخت شکست ہوئی۔وہ اس کا ازالہ کرنے کے لئے پھر جمع ہوئے ، شکست کا بدلہ لینے کے لئے۔مگر پھر ایرانی کثرت تعداد اور جو ساز و سامان تھا جنگ کا اُس کی وجہ سے غالب ہوتے نظر آ رہے تھے۔تو ہاتھیوں کے ریلے کا مقابلہ بھی ان سے مشکل ہوتا تھا چنانچہ آخری دن کی جنگ میں بہت سے صحابہ مارے گئے۔آخر مسلمانوں نے مشورہ کیا کہ اگلے روز آخری فیصلہ کن جنگ کی جائے تو خنساء نامی ایک عورت جو بڑی شاعرہ اور ادیب گزری ہے، اس کے چار بیٹے تھے۔انہوں نے اپنے چاروں بیٹوں کو بلایا اور کہا: میرے بچو! میرے