اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 80
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 80 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب زیادہ ساٹھ ہزار تھی اور دشمن کی دس لاکھ بعض نے لکھی ہے اور بعض نے تین چار لاکھ عیسائی مؤرخین نے بھی لکھی ہے۔تو بہر حال مسلمانوں سے کم از کم پانچ چھ گناہ زیادہ تعداد تھی۔تو ایک دفعہ دشمن کی طرف سے ایسا سخت حملہ ہوا کہ مسلمانوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ہندہ نے جو اپنے خیمے میں تھیں، جب غبار اٹھتا دیکھا جب پیچھے ہٹ رہے تھے مٹی اٹھتی دیکھی تو کسی سے پوچھا کہ یہ کیسا غبار ہے؟ تو اُس نے بتایا کہ مسلمانوں کو شکست ہو گئی ہے، وہ پسپا ہورہے ہیں۔ہندہ نے عورتوں سے کہا کہ اگر مردوں نے شکست کھائی ہے اور اسلام کے نام کو بٹہ لگایا ہے تو آؤ ہم مقابلہ کریں۔عورتوں نے اُن سے دریافت کیا کہ ہم کس طرح مقابلہ کر سکتی ہیں؟ انہوں نے کہا ہم مسلمانوں کے گھوڑوں کو ڈنڈے ماریں گے اور کہیں گے تم نے پیٹھ دکھائی ہے تو اب ہم آگے جاتی ہیں۔اُس وقت ابوسفیان اور دوسرے صحابہ واپس آرہے تھے کیونکہ ریلا بہت سخت تھا۔انہوں نے دیکھا کہ ہندہ آگے آئیں اور اُن کے گھوڑوں کو ڈنڈے مارنے شروع کر دیے۔ہندہ نے ابوسفیان سے کہا تم تو کفر کی حالت میں بھی اپنی بہادری کی بہت شیخیاں مارا کرتے تھے۔مگر اب مسلمان ہو کر اس قدر بز دلی دکھا رہے ہو حالانکہ اسلام میں تو شہادت کی موت زندگی ہے۔اس پر ابوسفیان نے مسلمانوں سے کہا کہ واپس چلو، ہندہ کے ڈنڈے دشمن کی تلوار سے زیادہ سخت ہیں۔چنانچہ مسلمانوں نے پھر حملہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے پھر ان کو فتح عطا فرمائی۔تو یہ ایک عورت تھی جس نے اس جنگ کی کایا پلٹوائی۔حضرت عمر فاروق کے عہد خلافت میں سرموک کی ہولناک لڑائی پیش آئی تو شوق جہاد نے حضرت اسماء کو گھر نہ بیٹھنے دیا۔وہ اپنے اہلِ خاندان کے ہمراہ اس لڑائی میں شریک ہوئیں اور بڑی ثابت قدمی سے داد شجاعت دی۔ایک موقعہ پر عیسائی مسلمانوں کو دباتے دباتے عورتوں کے خیموں تک آپہنچے۔جنگ ہو رہی تھی، عیسائی فوج زیادہ تھی انہوں نے اتنا سخت حملہ کیا کہ مسلمان پیچھے ہٹتے ہٹتے عورتوں کے خیموں تک آگئے۔حضرت اسماء اور دوسری دختران اسلام جو وہاں بیٹھی تھیں، انھوں نے خیموں کی چوبیں اتارلیں ، لکڑیاں جو تھیں بانس لگے ہوئے تھے وہ اتار لیے، اور دشمنوں پر پل پڑیں اور ان کو پیچھے دھکیل دیا۔ایک روایت میں ہے کہ اس لڑائی میں حضرت اسماء نے تنہا اپنی لکڑی سے نو رومیوں کو قتل کیا۔پھر حضرت عز ہ بنت حارث کے متعلق آتا ہے جو ایک صحابی سیدنا حضرت عقبہ بن رضوان