اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 77 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 77

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 77 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب مسلمان ہوئے جو کہ دراصل انہی کی وجہ سے مسلمان ہوئے تھے۔بڑا مشہور واقعہ ہے۔حضرت عمرؓ حضرت حمزہ کے مسلمان ہونے کے بعد آنحضرت عیل کے پاس قتل کے ارادے سے جار ہے تھے کہ راستے میں ایک صحابی سے ملاقات ہوئی اس سے پوچھا کہ کیا تم نے آبائی مذہب چھوڑ کر محمد نے کا مذہب اختیار کر لیا ہے اس نے کہا کہ ہاں لیکن پہلے اپنے گھر کی خبر لو تمہارے بہن اور بہنوئی نے بھی صلى الله حضرت محمد ﷺ کا مذہب قبول کر لیا ہے۔حضرت عمر سید ھے بہن کے گھر پہنچے۔دروازہ بند تھا اور وہ قرآن پڑھ رہی تھیں۔ان کی آہٹ پا کر چھپ گئیں اور قرآن کے جو اجزاء تھے، صفحے تھے اور کتاب کی صورت میں تو ہوتا نہیں تھا، مختلف جگہوں پر لکھا ہوتا تھا ، ان کو چھپا دیا۔لیکن آواز حضرت عمر کے کان میں پڑ چکی تھی۔پوچھا یہ کیا آواز تھی ؟ تو انہوں نے کہا کہ کچھ نہیں۔انہوں نے کہا کہ میں سن چکا ہوں کہ تم دونوں مرتد ہو گئے ہو۔یہ کہہ کر بہنوئی سے لڑنے لگے۔اُس کا گریبان پکڑا۔حضرت فاطمہ بچانے کے لئے آگے آئیں تو اُن کو بھی مارا اور بال پکڑ کر گھسیٹے۔اور اس قدر مارا کہ ان کا بدن لہولہان ہو گیا۔اسی حالت میں اس کی مختلف روایتیں ہیں کہ ناک سے خون بہہ گیا، جب مکا مارا۔تو بہر حال اس روایت میں یہ ہے کہ اس حالت میں ان کے منہ سے نکلا ،حضرت عمر کی بہن سے، کہ عمر ! جو ہوسکتا ہے کر لو لیکن اب اسلام ہمارے دل سے نہیں نکل سکتا۔ان الفاظ نے حضرت عمر کے دل پر ایک خاص اثر کیا۔بہن کی طرف محبت کی نگاہ سے دیکھا۔زخمی بہن پہلے ہی تھیں ، دل نرم ہورہا تھا۔اُن کے بدن سے خون جاری تھا ، یہ دیکھ کر اور بھی رقت پیدا ہوئی۔فرمایا کہ تم لوگ جو پڑھ رہے تھے مجھ کو بھی سناؤ۔حضرت فاطمہ نے قرآن کے اجزاء لا کر سامنے رکھ دیئے۔حضرت عمر اُن کو پڑھتے جاتے تھے اور ان پر رعب طاری ہوتا جاتا تھا یہاں تک کہ یہ ایک آیت پر پہنچ کر پکارا اٹھے کہ اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَّسُوْلُ الله۔پھر حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بنت عبدالمطلب کے بارے میں آتا ہے کہ غزوہ احد کی طرح غزوہ خندق میں بھی انہوں نے نہایت ہمت اور استقلال کا ثبوت دیا۔اور انصار کے قلعوں میں سب سے زیادہ مستحکم قلعہ جو تھا یہ بنو برازہ کی آبادی سے ملا ہوا تھا۔اُس کی حفاظت کے لئے حضرت حسان کو متعین کیا گیا۔یہ ایک شاعر تھے۔یہود نے یہ دیکھ کر کہ تمام جمعیت یعنی کہ مسلمانوں کی تمام جو طاقت ہے اور لوگ ہیں ، وہ تمام مسلمان ، وہ آنحضرت مے کے ساتھ ہیں خندق کی طرف۔تو قلعے پر