اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 76
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 76 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب دھوپ میں کھڑا کر دیا کرتے تھے اور ان کو اس حالت میں روٹی کے ساتھ شہد کھلاتے تھے تاکہ زیادہ گرمی لگے،حلق خشک ہو اور پھر پانی نہیں دیتے تھے۔جب اس طرح تین دن گزر گئے تو مشرکین نے کہا کہ جو دین تم نے اختیار کیا ہے اس کو چھوڑ دو۔وہ تین دن رات کی جو فاقہ کشی تھی اس سے بالکل بدحواس ہو گئیں تھیں۔مشرکین کی بات کا مطلب نہیں سمجھیں۔جب ان لوگوں نے آسمان کی طرف اشارہ کیا تو وہ سمجھ گئیں کہ یہ لوگ مجھ سے توحید کا انکار کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔فور بولیں خدا کی قسم! میں تو اسی عقیدے پر قائم ہوں۔یہ نہیں کہ خود ہی انہوں نے اسلام قبول کر لیا بلکہ ان کے متعلق آتا ہے کہ نہایت سرگرمی سے قریش کی عورتوں کو بھی اسلام کی دعوت دیا کرتی تھی اور کوئی کسی قسم کی سختی ان کو اس کام سے نہیں روک سکی کہ اللہ تعالیٰ نے جوان کے سپر د کیا تھا اس کی رضا حاصل کرنے کے لئے پھر حضرت ام عبیس کے بارے میں آتا ہے کہ وہ ایک لونڈی تھیں اور ابتدائی مسلمانوں میں سے تھیں اور ان کو اسلام لانے کی وجہ سے مکہ کے مشرک رئیس الاسود بن عبد یغوث ان پر بے پناہ ظلم کیا کرتا تھا لیکن وہ کسی صورت میں اسلام سے منحرف نہیں ہوتی تھیں۔حضرت ابو بکر صدیق نے انہیں خرید کر آزاد کیا۔پھر حضر تحیہ ام عمار بن یاسر کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ ہے۔کہتے ہیں کہ آپ کا نمبر اسلام قبول کرنے والوں میں ساتواں تھا۔اسلام قبول کرنے کے بعد کچھ دن اطمینان سے گزرے تھے کہ قریش کا ظلم و ستم شروع ہو گیا اور بتدریج بڑھتا چلا گیا۔چنانچہ جو شخص جس مسلمان پر قابو پا تا تھا، طرح طرح کی دردناک تکلیفیں اسے دیتا تھا۔حضر ہیمی کو بھی ان کے خاندان نے ان کو شرک پر مجبور کیا لیکن وہ اپنے عقیدے پر نہایت شدت سے قائم رہیں۔جس کا صلہ یہ ملا کہ مشرکین ان کو مکۃ کی جلتی اور تپتی ریت پر لوہے کے زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کرتے تھے۔آنحضرت علے ادھر سے گزرتے تو یہ حالت دیکھ کر فرماتے : آل یا سر صبر کرو، اس کے عوض تمہارے لئے جنت ہے۔اور ابو جہل نے ایک دن ان کو ایک نیزہ مار کر شہید کر دیا۔حضرت فاطمہ بن خطاب کے بارہ میں آتا ہے کہ آپ اپنے خاوند سعید بن زید کے ساتھ مسلمان ہوئیں۔یہ اوائل اسلام کا واقعہ ہے۔ان کے کچھ دنوں کے بعد ان کے بھائی یعنی حضرت عمر