اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 71
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 71 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب ہیں۔اور یہ بشارت والے وہ لوگ ہیں جو اپنی نمازیں وقت پر پڑھتے ہیں، اللہ کے عبادت گزار ہیں اور چوتھی بات یہ کہ یہ لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے ہیں، دین کی ضروریات کے لئے اگر ضرورت پڑے تو بے دریغ خرچ کرتے ہیں۔لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کے لئے اگر کہا جائے تو وہاں بھی خرچ کرتے ہیں یعنی اللہ کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں، اللہ کے دین کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں اور بندوں کے حقوق بھی ادا کرتے ہیں۔پس یہ لوگ ہیں جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کی بشارت پانے والے ہیں۔اور پھر تیسری آیت جو میں نے پڑھی سورہ بقرہ کی اس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جولوگ اللہ کی راہ میں مارے جاتے ہیں ان کے متعلق یہ مت کہو کہ وہ مُردہ ہیں وہ مُردہ نہیں بلکہ زندہ ہیں مگر تم نہیں سمجھتے۔یعنی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی کوشش کرتے ہوئے ،ثبات قدم دکھاتے ہوئے اگر قتل بھی ہو جائیں تو اس کی پرواہ نہیں کرتے ، اللہ کے نزدیک یہ لوگ جنہوں نے اپنی جان دی ہے وہ مُردہ نہیں ہیں، مر نہیں گئے بلکہ ایک اُخروی زندگی پانے والے ہیں۔جہاں اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق وہ جنتوں کے وارث بنیں گے۔یہ احساس جس قوم میں پیدا ہو جائے کہ میری زندگی اور میری موت اللہ کے لئے ہے، وہ قوم مرا نہیں کرتی بلکہ اس کے ہر فرد کی قربانی ہزاروں قربانیوں کے بیج بوتی ہے۔یہ نظارے ہم نے قرونِ اولیٰ میں صحابیات میں دیکھے اور یہ نظارے ہم نے اس زمانے میں مسیح و مہدی کے ماننے والوں میں بھی دیکھے اور دیکھتے ہیں۔آج میں نے تاریخ سے کچھ واقعات لئے ہیں جو اسلامی تاریخ سے بھی ہیں اور آخرین کی جماعت میں جنہوں نے یہ قربانیاں دیں، ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ آج بھی اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے قربانیاں دینی ہوں گی اور اللہ تعالیٰ کی رضا قربانیوں سے ہی حاصل ہوگی۔پہلی مثال جومیں نے لی ہے ، وہ دعاؤں کی طرف کس طرح شغف ہوتا تھا۔حضرت جویریہ کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت جویریہ رضی اللہ عنہا زاہدانہ زندگی بسر کرتی تھیں۔ایک دن صبح کو مسجد میں جا کر دعا کر رہی تھی تو آنحضرت سے گزرے اور دیکھتے ہوئے چلے گئے۔دوپہر کے وقت آئے تب بھی ان کو اسی حالت میں پایا۔تو یہ تھی وہ عابدات جو عبادتوں میں اس طرح مشغول ہوتی تھیں کہ صبح سے دوپہر ہو جاتی تھی۔