اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 72 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 72

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 72 جلسہ سالانہ برطانیہ 2007 مستورات سے خطاب پھر ایک مثال ہے اوائل اسلام میں کہ ام سلیم رضی اللہ عنہا مسلمان ہوئیں۔ان کی اسلام سے محبت اس قدر شدید تھی کہ ان کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے خاوند مالک چونکہ اپنے آبائی مذہب پر قائم رہنا چاہتے تھے اور حضرت ام سلیم رضی اللہ عنہا تبدیلی مذہب پر اصرار کرتی تھیں اس لئے دونوں میں کشیدگی پیدا ہوگئی اور مالک ناراض ہو کر شام چلے گئے اور وہیں انتقال کیا۔ابوطلحہ نے جواسی قبیلے کے تھے ام سلیم سے نکاح کا پیغام دیا۔تو ام سلیم نے اسی عذر کی وجہ سے کہ ابوطلحہ بھی مسلمان نہیں تھے رشتے سے انکار کر دیا۔یعنی ابوطلحہ چونکہ مشرک تھے اس لئے انہوں نے کہا کہ میں تو رشتہ نہیں کر سکتی کیونکہ پہلی یہی وجہ میری پہلے خاوند سے جھگڑے کی تھی۔تو انہوں نے کہا اگر تم اسلام قبول کر لو تو یہی میرا حق مہر ہو گا اس کے علاوہ کوئی مہر نہیں مانگوں گی۔تو یہ تھے ان لوگوں کے نمونے جو آج بھی ہمارے سامنے مشعل راہ ہیں۔بعض اس بات کو محسوس نہیں کرتیں کہ کیا فرق پڑتا ہے مذہب سے۔مذہب کا ہمیشہ ایک احمدی لڑکی کو یہ احساس ہونا چاہئے کہ میں احمدی ہوں اور اگر میں کہیں باہر رشتہ کرتی ہوں تو میری آنے والی نسل جو ہے اس میں بگاڑ پیدا ہوسکتا ہے۔اور میرے مذہب میں بھی بگاڑ پیدا ہو سکتا ہے کیونکہ دوسرے گھر میں جاکر، ایک غیر مذہب میں جا کر ان کے زیر اثر میں آسکتی ہوں۔تو یہ ایسی چیزیں ہیں جو آج بھی ہمارے لئے مثال ہیں۔پھر ایک غیرت ایمانی کا واقعہ ہے اُم المومنین حضرت ام حبیبہ کا۔امام زہری روایت کرتے ہیں کہ اسلام قبول کرنے سے قبل ابوسفیان مدینہ آئے۔وہ صلح حدیبیہ کی مدت بڑھانا چاہتے تھے۔وہ اپنی بیٹی ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے۔جب وہ رسول اللہ ﷺ کے بستر پر جا کر بیٹھنے لگے ، گھر گئے اور وہ بستر تھا جہاں آنحضرت ﷺ بھی بیٹھا کرتے تھے، بیٹھنے لگے تو حضرت ام حبیبہ نے بستر لپیٹ دیا کہ ابوسفیان اس پر نہ بیٹھیں۔اس پر ابوسفیان نے کہا کہ بیٹی تم نے اس بستر کو مجھ پر ترجیح دی ہے، تم سمجھتی ہو کہ بستر ایسا پاک ہے کہ میں اس پر بیٹھنے کے لائق نہیں۔اس پر حضرت ام حبیبہ نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ یہ بستر رسول اللہ ﷺ کا ہے، مقدس بستر ہے اور تم ایک نا پاک مشرک شخص ہو گو میرے باپ ہو لیکن تمہارا وہ مقام نہیں کہ اس بستر پر بیٹھ سکو۔پھر تکالیف کس طرح برداشت کرتی تھیں۔حضرت اسماء بنت ابوبکر بیان کرتی ہیں کہ جب رسول کریم علیہ اور حضرت ابوبکر کے ہجرت کے لئے روانہ ہونے کے بعد قریش کا ایک وفد ہماری