اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 31 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 31

الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 31 بر موقع جلسہ سالانہ آسٹریلیا 2006 مستورات سے خطاب لئے فرمایا تھا کہ اگر جماعت کا ایک طبقہ مست ہے تو دوسرا طبقہ اپنے کام میں فعال اور تیز ہو جائے اور جماعتی ترقی کے کام کبھی رکنے نہ پائیں اور جب جماعت کے تمام طبقات فعال ہو جاتے ہیں کام کرنے لگ جاتے ہیں تو پھر جماعت کی ترقی کی رفتار کئی گنا زیادہ ہو جاتی ہے۔حقیقی طور پر عبادت گزار بن جائیں آپ کی زندگیاں سنور جائیں گی پس اب وقت ہے کہ آپ عورتیں ایک نئے عزم کے ساتھ جماعتی خدمات میں جت جائیں لیکن یہ سب کچھ جیسے کہ میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کی سنت اور حکم ہے بغیر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے ہو نہیں سکتا اس لئے اس کے فضل کو سمیٹنے کے لئے آپ کو اپنا شمار عابدات میں بھی کروانا ہوگا اور عاہدات ہونے کے لئے جیسا کہ میں نے کل کے خطبے میں بھی کہا تھا اپنی نمازوں کی حفاظت اور ان کو سنوار کر ادا کرنے کی طرف توجہ دینی ہوگی۔گو کہ میں یہاں عبادت کی بات دوسرے نمبر پر کر رہا ہوں لیکن اصل میں سب سے اول عبادت ہی ہے اور ہمارا تو اصل سہارا اللہ ہی ہے اور اُسی سے ہم نے مدد لینی ہے ہمیشہ۔پس آپ کا شمار عابدات میں ہو جائے گا تو آپ اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کو اپنے او پر اتر تا دیکھیں گی آپ اللہ تعالیٰ کے بے شمار فضلوں کی وارث بنیں گی۔جب کہ اس کے بغیر آپ کی تمام کوششیں بے فیض ہوں گی کسی پھل کے بغیر ہوں گی پس اپنے دلوں کو ٹولتے ہوئے تقویٰ پر قدم مارتے ہوئے اپنے آپ کا شمار عابدات میں کروائیں ایسی عورتوں میں کروائیں جو عبادت کرنے والی عورتیں ہوں۔کیونکہ جیسا کہ میں نے کہا کہ عبادات کے بغیر ایک احمدی کی زندگی نامکمل ہے آپ میں سے بہت سے یہاں اپنے ملک کے نامساعد حالات کی وجہ سے، تکلیف دہ حالات کی وجہ سے تنگی کی وجہ سے آئی ہیں اور یہ نا مساعد اور تکلیف دہ حالات جیسا کہ میں کل خطبہ میں ذکر کر چکا ہوں یہ آپ کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ السلام کو ماننے کی وجہ سے پیش آئے ہیں اس لئے ہر روز جو آپ پر طلوع ہو اور ہر دن جو کل چڑھے آپ کے ذہن میں یہ بات بٹھاتے ہوئے طلوع ہواس ملک میں امن سے زندگی گزارنے کا موقع اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیا ہے یہ اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنے ہر دن کا آغاز خدا کی عبادت سے کریں اور اُس کے نام سے کریں اور حقیقی طور پر عبادت گزار بن جائیں۔اور پھر سارا دن اس کا احساس اگر آپ کے ذہنوں میں رہے تو اس سے آپ کی زندگیاں سنور جائیں گی۔