اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 23 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 23

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 23 بر موقع اجتماع جرمنی 2006 مستورات سے خطاب کے مقامی لوگ جب جنگلوں میں رہنے والے تیسری دنیا کے غریب ملکوں کے لوگ یہ کپڑے استعمال نہیں کرتے تو ان کو یہ بد تہذیب اور جنگلی کہتے ہیں اور اقدار سے عاری لوگ کہتے ہیں اور جب یہ لوگ خود ایسی حرکتیں کر رہے ہوں تو یہ حرکتیں تہذیب بن جاتی ہیں۔پس اس معاشرے سے اتنا متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ہے آپ لوگوں کو۔ان کے اپنے ملکوں میں بھی آج سے چند دھائیاں پہلے چند سال پہلے بلکہ آج بھی جو رائل فیملیاں ہیں جو اونچے بڑے خاندان ہیں ان کے لباس شریفانہ ہیں۔باز و لمبے ہیں تو پوری سلیوز ہیں۔فراک ہیں تو لمبی ہیں یا میکسیاں ہیں یا گاؤن استعمال کئے جاتے ہیں۔پہلے کئے جاتے تھے اور اب بھی بعض کرتی ہیں اور جیسا کہ میں نے کہا رائل فیملیز میں آج بھی استعمال کی جاتی ہیں۔اچھے خاندان شراب میں دھت ہونے اور اودھم مچانے اور ننگے لباس کو دنیا میں ہر جگہ بُراسمجھتے ہیں۔خواہ کسی بھی ملک کے ہوں۔شریف لوگ ہوں۔کسی مذہب کے زیر اثر تو وہ نہیں ہوتے۔یہ یا تو خاندانی روایات ہیں ان کی جس کی وجہ سے اپنا لباس انہوں نے شریفانہ رکھے ہوتے ہیں۔یا فطرت ان کو کہتی ہے کہ ننگے لباس پہنا غلط ہے۔تمہارا اپنا ایک خاص مقام ہے اسکی خاطر تم نے اچھے لباس پہنے ہیں جو سلجھے ہوئے نظر آئیں۔اسی طرح لغویات میں گندی اور نگی فلمیں ہیں۔گندی اور رنگی کتا بیں ہیں۔رسالے ہیں یہ سب اس بہانے سے مارکیٹ میں پھیلائی جاتی ہیں کہ اس زمانے میں جنسی تعلقات کا پتہ لگنا چاہیے تاکہ ان بُرائیوں سے بچا جاسکے۔بچتے تو پتہ نہیں یہ ہیں کہ نہیں لیکن ہر سڑک پر ہر گلی کے نکڑ پر ایسے جو اشتہارات ہیں اخلاق سوز قسم کے وہ بُرائیوں میں ضرور معاشرے کو گرفتار کر دیتے ہیں۔جو چیز فطری ہے اس کا جب وقت آئے گا تو خود بخود پتہ چل جائے گا۔جب اس کا پتہ لگنے کی ضرورت ہے۔علم کے نام پر اس ذہنی عیاشی سے اپنے آپ کو بچانا چاہئے۔اس لئے حضرت مسیح موعود نے فرمایا ہے کہ اپنے تمام اعضاء کو زنا سے بچاؤ۔پس ہر عورت کو ایک فکر کے ساتھ اپنے بچوں کو سمجھانا چاہئے اور ہر بچی کو جو بلوغت کی عمر کو پہنچ چکی ہے جس کا دماغ میچور ہو چکا ہے۔یہ احساس ہونا چاہئے کہ یہ بُرائیاں ہیں جو مزید گندگیوں میں دھکیلتی چلی جائیں گی۔اس لئے ان سے بچنا ہے۔ہر ایسی چیز جس کا ناجائز استعمال شروع ہو جائے وہ بھی لغویات میں ہے مثلاً انٹرنیٹ کے بارے میں میں پہلے بھی کئی دفعہ کہہ چکا ہوں۔یہ اس زمانے کی ایجاد ہے اور یہ ایجادات اللہ تعالیٰ نے مسیح موعود کے زمانے میں مقدر کی ہوئی تھیں۔قرآنِ کریم میں مختلف ایجادات کا اعلان