اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 24 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 24

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 24 بر موقع اجتماع جرمنی 2006 مستورات سے خطاب بھی فرما دیا۔انٹرنیٹ بھی ان میں سے ایک ہے اور ٹیلی فون کا نظام جو ہے وہ بھی ان میں سے ایک ہے۔ٹیلی وژن کا نظام ہے یہ بھی ان میں سے ایک ہے۔جنہوں نے اشاعت کے لئے کام آنا تھا اس زمانے میں لیکن اگر ان ایجادات کا غلط استعمال کریں گی تو یہ لغویات میں شمار ہونگی اور ایسی لغویات سے اللہ تعالیٰ نے منع فرمایا ہے اور ان سے بچنے کا بھی حکم ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے مومن کی تعریف یہ ہے کہ عَنِ الغْوِ مُعْرِضُونَ جولغو سے اعراض کرنے والے ہوں۔لغویات سے بچنے والے ہوں۔جب انٹرنیٹ پر دوستوں سے چیٹ کرنے اور اس میں دوسروں کا مذاق اڑانے اور پھکڑ توڑنے ایک دوسرے کے خلاف کام میں لائیں گی یا لوگوں کے رشتوں میں دراڑیں پیدا کرنے کے کام میں لائیں گی۔کسی دوسری عورت کی زندگی اس کے خاوند سے انٹرنیٹ پر گفتگو کر کے برباد کریں گی۔ایک دوسرے کی چغلیاں ہو رہی ہونگی تو یہی کارآمد چیز جو ہے یہ لغویات میں بھی شمار ہوگی اور گناہ بھی بن رہی ہوگی۔پھر آج کل موبائل فون پر ٹیکسٹ میں پیغامات دیئے جاتے ہیں۔یہ بھی ایک سلسلہ شروع ہوا ہے نیا، آج کل بڑا سستا طریقہ ہے گیئیں مار کر وقت ضائع کرنے کا اور نامحرموں سے بات کرنے کا۔بڑے آرام سے کہہ دیا جاتا ہے کہ ٹیکسٹ میسج ہی تھا کونسی بات کر لی ہے۔ایک دوسرے سے رابطے اس طرح بڑھتے ہیں کہ سہیلی نے اپنے دوستوں میں سے کسی کا فون دے دیا یا اپنے دوستوں کو اپنی سہیلی کا فون دے دیا۔موبائل نمبر دے دیا یا کسی بھی ذریعہ سے ایک دوسرے کے نمبر ہاتھ آگئے تو ٹیکسٹ میسج کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے پھر ٹیلی فون پر 14,13,12 سال کے بچیاں بچے لے کر پھر رہے ہوتے ہیں۔پیغامات دے رہے ہوتے ہیں۔اور یہی عمر ہے جو خراب ہونے کی عمر ہے اور پھر انجام ایسی حد تک چلا جاتا ہے آخر کار جہاں وہ لغو جو ہے وہ گناہ بن جاتا ہے۔اس لئے احمدی بچیاں اپنی عصمت کی خاطر اپنی عزت کی خاطر اپنے خاندان کے وقار کی خاطر اپنی جماعت کے تقدس کو مد نظر رکھتے ہوئے جس کی طرف وہ منسوب ہورہی ہیں جس سے وہ منسلک ہیں ان چیزوں سے بچیں اور اسی طرح احمدی مرد بھی سن رہے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو اس سے بچائیں۔پھر پہلے میں لباس کی باتیں کر رہا تھا۔لباس کے نگ کے ساتھ ہی ہر قسم کی بیہودگی اور نگ کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔ماں باپ کہہ دیتے ہیں کہ کوئی بات نہیں بچیاں ہیں۔فیشن کرنے کا شوق ہے، کر لیں کیا حرج ہے۔ٹھیک ہے فیشن کریں لیکن فیشن میں لباس ننگے پن کی طرف جب جارہا ہو تو وہاں بہر حال روکنا چاہئے۔