اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 13
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 13 جلسہ سالانہ برطانیہ 2006 مستورات سے خطاب ہر وقت اسے نقاب سامنے رکھنا مشکل ہے تو وہ تو ایسا سکارف لے سکتی ہے جس سے چہرے کا زیادہ سے زیادہ پردہ ہو سکے اور اس کے کام میں بھی روک نہ پڑے لیکن ایسی صورت میں پھر بھر پورمیک آپ بھی چہرے کا نہیں ہونا چاہیے لیکن ایک عورت جو خانہ دار خاتون ہے پاکستان سے پردہ کرتی یہاں آئی ہے یہاں آکر نقاب اتار دیں اور میک اپ بھی کریں تو یہ عمل کسی طرح بھی صالح عمل نہیں کہلا سکتا۔ایسی عورت کے بارے میں یہی سوچا جا سکتا ہے کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے بجائے دنیا کو دین پر مقدم کر رہی ہے۔ماحول سے متاثر زیادہ ہو رہی ہے بلکہ بعض دفعہ شرم آتی ہے یہ دیکھ کر کہ یہاں یورپ کے ماحول میں پلی بچیاں جو ہیں، عورتیں جو ہیں ، وہ ان پاکستان سے آنے والی عورتوں سے زیادہ بہتر پردہ کر رہی ہوتی ہیں۔ان لوگوں سے جو پاکستان سے یا ہندوستان سے آئی ہیں ان کے لباس اکثر کے بہتر ہوتے ہیں وہاں جو برقعہ پہن رہی ہوتی ہیں اگر تو وہ مردوں کے حکم پر اتار رہی ہوتی ہیں تب بھی غلط کرتی ہیں اللہ تعالیٰ کے واضح احکامات کے خلاف مردوں کے کسی حکم کو ماننے کی ضرورت نہیں۔اور اگر یہ عورتیں خود ایسا کر رہی ہیں تو مردوں کے لئے بھی قابل شرم بات ہے ان کو تو انہیں کہنا چاہیے تھا کہ تمہارا ایک احمدی عورت کا تقدس ہے اس کی حفاظت کرو، نہ کہ اس کے پردے اتر واؤ۔پس ہر قسم کے کمپلیکس سے آزاد ہو کر مردوں اور عورتوں دونوں کو پاک ہو کر یہ عمل کرنا چاہیے۔اور اپنے پردوں کی حفاظت کریں۔ایسی عورتیں اور ایسے مردوں کو اس بات سے ہی نمونہ پکڑنا چاہیے کہ غیر مذاہب سے احمدیت میں داخل ہونے والی عورتیں تو اپنے لباس کو حیا دار بنارہی ہیں۔جن کے لباس اترے ہوئے ہیں وہ اپنے ڈھکے ہوئے لباس پہن رہی ہیں۔اور احکامات پر عمل کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔اور آپ اس حیادار لباس کو اتار کر ہلکے لباس کی طرف آرہی ہیں۔جو آہستہ آہستہ بالکل بے پردہ کر دے گا۔بجائے اس کے دین کے علم کے آنے کے ساتھ ساتھ روحانیت میں ترقی ہو اور اللہ تعالیٰ کے احکامات پر پہلے سے بڑھ کر پابندی ہو اس سے دور ہٹنا سوائے اس کے دوبارہ جہالت کے گڑھے میں گرادے اور کچھ نہیں ہوگا۔پھر ایک حکم کے بعد دوسرے حکم پر عمل کرنے میں سستی پیدا ہوگی پھر نسلوں میں دین سے دوری پیدا ہوگی جیسا کہ پہلے ہی میں بتا آیا ہوں اور پھر اس طرح آہستہ آہستہ نسلیں بالکل دین سے دور ہٹ جاتی ہیں۔اور برباد ہورہی ہوتی ہیں۔