اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 14 of 156

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ دوم) — Page 14

الا ز حارلذوات الخمار جلد سوم حصہ دوم 14 جلسہ سالانہ برطانیہ 2006 مستورات سے خطاب دنیا کی نجات اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے سے ہے پس کسی بھی حکم کو کم اہمیت کا حکم نہ سمجھیں استغفار کرتے ہوئے اللہ کے آگے جھکیں تا کہ جہاں اپنی دنیا اور عاقبت سنوار رہی ہوں وہاں نئی آنے والی نسلوں کو بھی ہر قسم کی ٹھوکر سے بچائیں۔نئے آنے والی جماعت میں شامل ہونے والیوں کو بھی ٹھوکر سے بچائیں۔پس جیسا کہ میں نے کہا کہ آپ کے یہ عمل صالح ہی ہوں گے جو تبلیغ کے لحاظ سے بھی اور نئے آنے والیوں اور آپ کی نسلوں کی تربیت کے لحاظ سے بھی آپ کو احمدیت کے لئے مفید وجود بنائیں گی۔پس آپ سب نوجوان بچیاں بھی اور عورتیں بھی اپنے جائزے لیں اپنے اندر جھانکیں کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں کسی تعلیم کا پابند کیا ہے خدا تعالیٰ ہمیں کس تعلیم کا پابند کرنا چاہتا ہے۔ہمارے اندر کیا روح پیدا کرنا چاہتا ہے۔اور ہم کس حد تک اس پر عمل کر رہی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت میں آکر عہد بیعت کرنے کے بعد کس حد تک اس کو نبھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔اپنی نسلوں میں یہ روح کس حد تک پھونک رہی ہیں۔کہ آج دنیا کی نجات اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے سے ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ پر عمل کرنے سے ہے اور ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی تمام تر صلاحیتوں پر عمل کرتے ہوئے دنیا کو اس طرف لانا ہے ہم نے تاکہ نیک اعمال کی وجہ سے دنیا کے فساد ختم ہوں۔قرآن کریم ایک مکمل تعلیم ہے اس کو سیکھیں اور اس پر عمل کریں کسی قسم کے احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں۔بلکہ جیسا کہ میں نے کہا کہ اس تعلیم پر عمل کرتے ہوئے دنیا کو اس طرف بلائیں ایسے عمل دکھا ئیں تا کہ آپ کے اعلیٰ معیار دیکھ کر غیر عورتیں آپ سے راہنمائی حاصل کریں۔دنیا کی عورتیں آپ کے پاس یہ سوال لے کر آئیں کہ گو ہم بعض دنیاوی علوم میں آگے بڑھی ہوئی ہیں بظاہر ہم آزاد ماحول میں اپنی زندگیاں گزار رہی ہیں لیکن اس کے باوجود ہم دل کا سکون اور چین حاصل نہیں کر سکیں۔ہمارے اندر ایک بے چینی ہے ہمارے خاندانوں میں بٹوارہ ہے ایک وقت کے بعد خاوند بیویوں میں اختلافات کی خلیج بڑھتی چلی جاتی ہے۔جس سے بچے بھی متاثر ہوتے ہیں اور سکون اور یکسوئی سے نہیں رہ سکتے جب کہ تمہارے گھروں کے نقشے ہمارے گھروں سے مختلف نظر آتے ہیں۔تمہارے گھر ہمیں پر سکون نظر آتے ہیں ہم تمہیں ماڈل سمجھتے ہیں۔ہمیں بتاؤ کہ ہم یہ سکون کس طرح حاصل کریں۔یہ غیروں کو