اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 77
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 77 خطبہ جمعہ 30 جنوری 2004 بمقام بیت الفتوح لندن چہرہ کا پردہ کیوں ضروری ہے؟ چہرہ کا پردہ کیوں ضروری ہے؟ اس بارہ میں حضرت مصلح موعودؓ نے احادیث سے یہ دلیل دی ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی کو اس لڑکی کی شکل دیکھنے کے لئے بھیجا جس کا رشتہ آیا تھا۔اگر چہرہ کا پردہ نہ ہوتا تو ظاہر ہے کہ پھر تو ہر ایک نے شکل دیکھی ہوتی۔پھر دوسری مرتبہ یہ واقعہ حدیث میں بیان ہوا ہے کہ جب ایک لڑکے کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم فلاں لڑکی سے شادی کرنا چاہتے ہو۔تم نے اس کو دیکھا ہے؟ اگر نہیں دیکھا تو جا کر دیکھ آؤ۔کیونکہ پردے کا حکم تھا بہر حال دیکھا نہیں ہوگا۔تو جب وہ اس کے گھر گیا اور لڑکی کو دیکھنے کی خواہش کی تو اس کے باپ نے کہا کہ نہیں اسلام میں پردے کا حکم ہے اور میں تمہیں لڑکی نہیں دکھا سکتا۔پھر اس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حوالہ دیا تب بھی وہ نہ مانا۔بہر حال ہر ایک کی اپنی ایمان کی حالت ہوتی ہے۔اسلام کے اس حکم پر اس کی زیادہ تختی تھی بجائے اس کے کہ آنحضرت ﷺ کے حکم کو موقعہ محل کے مطابق تسلیم کرتا اور مانتا۔تو لڑ کی جو اندر بیٹھی یہ باتیں سن رہی تھی وہ باہر نکل آئی کہ اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے تو پھر ٹھیک ہے میرا چہرہ دیکھ لو۔تو اگر چہرہ کے پردہ کا حکم نہیں تھا تو حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ کیوں فرمایا۔ہر ایک کو پتہ ہوتا کہ فلاں لڑکی کی یہ شکل ہے اور فلاں کی فلاں شکل۔اسی طرح ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف میں تھے۔رات کو حضرت صفیہ کو چھوڑ نے جا رہے تھے تو سامنے سے دو آدمی آرہے تھے۔ان کو دیکھ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا گھونگھٹ اٹھاؤ اور فرمایا دیکھ لو یہ میری بیوی صفیہ ہی ہے۔کہیں شیطان تم پر حملہ نہ کرے اور غلط الزام لگانانہ شروع کر دو۔تو چہرے کا پردہ بہر حال ہے۔پھر حضرت مصلح موعود درضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: وہ لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ اسلام میں منہ چھپانے کا حکم نہیں ان سے ہم پوچھتے ہیں کہ قرآن کریم تو کہتا ہے کہ زینت چھپاؤ اور سب سے زیادہ زینت کی چیز چہرہ ہی ہے اگر چہرہ چھپانے کا حکم نہیں تو پھر زینت کیا چیز ہے جس کو چھپانے کا