اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 78
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 78 خطبہ جمعہ 30 جنوری 2004 بمقام بیت الفتوح لندن حکم دیا گیا ہے۔بے شک ہم اس حد تک قائل ہیں کہ چہرے کو اس طرح چھپایا جائے کہ اس کا صحت پر کوئی برا اثر نہ پڑے مثلاً باریک کپڑا ڈال لیا جائے یا عرب عورتوں کی طرز کا نقاب بنالیا جائے جس میں آنکھیں اور ناک کا نتھنا آزاد رہتا ہے۔مگر چہرے کو پردہ سے باہر نہیں رکھا جا سکتا۔( تفسیر کبیر جلد ششم صفحه 301) پھر فرمایا کہ جو عورتیں بڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو جائیں اور نکاح کے قابل نہ رہیں وہ اگر معروف پر دہ چھوڑ دیں تو جائز ہے ہاں خواہ مخواہ زیور پہن کر اور بناؤ سنگھار کر کے باہر نہ نکلیں یعنی پردہ ایک عمر تک ہے اس کے بعد پردہ کے احکام ساقط ہو جاتے ہیں۔ہمارے ملک نے پردہ کے احکام کو ایسی بری طرح استعمال کیا ہے کہ جوان عورتیں پردہ چھوڑ رہی ہیں۔اور بوڑھی عورتوں کو جبراً گھروں میں بٹھایا جارہا ہے۔عورت کا چہرہ پردہ میں شامل ہے ورنہ اَنْ يُضَعْنَ ثِيَابَهُنَّ کے یہ معنے کرنے پڑیں گے کہ مونہہ اور ہاتھ تو پہلے ہی ننگے تھے اب سینہ اور بازو بھی بلکہ سارا بدن بھی ننگا کرنا جائز ہو گیا حالانکہ اسے کوئی بھی تسلیم نہیں کرتا۔(تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ 396-397) ہوتا یہی ہے کہ اگر پردہ کی خود تشریح کرنی شروع کردیں اور ہر کوئی پردے کی اپنی پسند کی تشریح کرنی شروع کر دے تو پردے کا تقدس کبھی قائم نہیں رہ سکتا۔اس لئے ماں باپ دونوں کو اپنی اولاد کے پردے کی طرف توجہ دینی چاہئے۔اور یہ دونوں کی ذمہ داری ہے۔اب کسی نے لکھا کہ مغربی ممالک میں ملازمت کے سلسلہ میں ایک یونیفارم ہے جس میں جینز اور بلا و زیا اسکرٹ استعمال ہوتا ہے تو کیا میں یہ پہن کر کام کر سکتی ہوں۔اس کو میں نے جواب دیا کہ اگر لمبا کوٹ پہن کر اور سکارف سر پر رکھ کر کام کرنے کی اجازت ہے تو ٹھیک ہے، ورنہ کوئی اجازت نہیں۔اس میں جن عزیزوں یا رشتوں کا ذکر ہے کہ ان سے پردہ کی چھوٹ ہے ان میں وہ سب لوگ ہیں جو انتہائی قریبی رشتہ دار ہیں۔یعنی خاوند ہے، باپ ہے یا سر ہے، بھائی ہے یا بھیجے، بھانجے وغیرہ۔ان کے علاوہ باقی جن سے رشتہ داری قریبی نہیں ان سب سے پردہ ہے۔