اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 76
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 76 خطبہ جمعہ 30 جنوری 2004 بمقام بیت الفتوح لندن إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا یعنی سوائے اس کے جو آپ ہی آپ ظاہر ہو۔اس کے بارہ میں حضرت مصلح موعود تفسیر کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا۔یعنی سوائے اس کے جو آپ ہی آپ ظاہر ہو۔یہ الفاظ دلالت کرتے ہیں کہ جو چیز خود بخود ظاہر ہو شریعت نے صرف اس کو جائز رکھا ہے۔یہ نہیں کہ جس مقام کو کوئی عورت آپ ظاہر کرنا چاہے اس کا ظاہر کرنا اس کے لئے جائز ہو۔میرے نزدیک آپ ہی آپ ظاہر ہونے والی موٹی چیزیں دو ہیں یعنی قد اور جسم کی حرکات اور چال۔لیکن عقلاً یہ بات ظاہر ہے کہ عورت کے کام کے لحاظ سے یا مجبوری کے لحاظ سے جو چیز آپ ہی آپ ظاہر ہو وہ پر دے میں داخل نہیں۔چنانچہ اسی اجازت کے ماتحت طبیب عورتوں کی نبض دیکھتا ہے کیونکہ بیماری مجبور کرتی ہے کہ اس چیز کو ظاہر کر دیا جائے۔“ پھر فرمایا کہ: اگر کسی گھرانے کے مشاغل ایسے ہوں کہ عورتوں کو باہر کھیتوں میں یا میدانوں میں کام کرنا پڑے تو اُن کے لئے آنکھوں سے لے کر ناک تک کا حصہ کھلا رکھنا جائز ہوگا۔اور پر وہ ٹوٹا ہوا نہیں سمجھا جائے گا کیونکہ بغیر اس کے کھولنے کے وہ کام نہیں کرسکتیں۔اور جو حصہ ضروریات زندگی کے لئے اور ضروریات معیشت کے لئے کھولنا پڑتا ہے اس کا کھولنا پر دے کے حکم میں ہی شامل ہے۔لیکن جس عورت کے کام اسے مجبور نہیں کرتے کہ وہ کھلے میدانوں میں نکل کر کام کرے اُس پر اس اجازت کا اطلاق نہ ہوگا۔غرضِ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا کے ما تحت کسی مجبوری کی وجہ سے جتنا حصہ نگا کرنا پڑے نگا کیا جاسکتا ہے۔“ ( تفسیر کبیر جلد ششم صفحہ 298-299) تو اس تفصیل سے پردے کی حد کی بھی کافی حد تک وضاحت ہوگئی کہ کیا حد ہے۔چہرہ چھپانے کا بہر حال حکم ہے۔اس حد تک چہرہ چھپایا جائے کہ بے شک ناک نگا ہو اور آنکھیں سنگی ہوں تا کہ دیکھ بھی سکے اور سانس بھی لے سکے۔