اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 74 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 74

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 74 خطبہ جمعہ 30 جنوری 2004 بمقام بیت الفتوح لندن پھر مومن عورتوں کے لئے حکم ہے کہ غض بصر سے کام لیں اور آنکھیں نیچی رکھا کریں۔اگر عورت اونچی نظر کر کے چلے گی تو ایسے مرد جن کے دلوں پر شیطان نے قبضہ کیا ہوا ہے وہ تو پھر ان عورتوں کے لئے مشکلات ہی پیدا کرتے رہیں گے۔تو ہر عورت کو چاہئے کہ اپنے آپ کو اور اپنے خاندان کو بدنامی سے بچانے کے لئے ، اللہ تعالیٰ کا جو حکم ہے غض بصر کا ، اس پر عمل کریں تا کہ کسی بھی قسم کی بدنامی کا باعث نہ ہوں۔کیونکہ اس قسم کے مرد جن کے دلوں میں کھی ہو، شرارت ہوتو وہ بعض دفعہ ذراسی بات کا بتنگڑ بنا لیتے ہیں اور پھر بلاوجہ کے تبصرے شروع ہو جاتے ہیں۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کو یہاں تک فرمایا تھا کہ اگر مخنث آئے تو اس سے بھی پردہ کرو۔ہوسکتا ہے کہ یہ باہر جا کر دوسرے مردوں سے باتیں کریں اور اس طرح اشاعت فحش کا موجب ہو۔تو دیکھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کس حد تک پابندی لگائی ہے۔کجا یہ کہ جوان مرد جن کے دل میں کیا کچھ ہے ہمیں نہیں پتہ ، ان سے نظر میں نظر ڈال کر بات کی جائے یا دیکھا جائے۔بلکہ یہ بھی حکم ہے کہ کسی مجبوری کی وجہ سے کسی مرد سے بات کرنے کی ضرورت پیش آجائے تو ایسا لہجہ ہونا چاہئے جس میں تھوڑی سی خفگی ہو، ترشی ہوتا کہ مرد کے دل میں کبھی کوئی برا خیال نہ پیدا ہو۔تو اس حد تک سختی کا حکم ہے۔اور بعض جگہوں پر ہمارے ہاں شادیوں وغیرہ پر لڑکوں کو کھانا Serve کرنے کے لئے بلا لیا جاتا ہے۔دیکھیں کہ سختی کس حد تک ہے اور کجا یہ کہ لڑکے بلا لئے جاتے ہیں اور کہا جاتا ہے کہ چھوٹی عمر والے ہیں حالانکہ چھوٹی عمر والے بھی جن کو کہا جاتا ہے وہ بھی کم از کم سترہ اٹھارہ سال کی عمر کے ہوتے ہیں۔بہر حال بلوغت کی عمر کوضرور پہنچ گئے ہوتے ہیں۔وہاں شادیوں پر جوان بچیاں بھی پھر رہی ہوتی ہیں اور پھر پتہ نہیں جو بیرے بلائے جاتے ہیں کس قماش کے ہیں۔تو جیسا کہ میں نے کہا ہے بلوغت کی عمر کو پہنچ چکے ہوتے ہیں اور ان سے پردے کا حکم ہے۔اگر چھوٹی عمر کے بھی ہیں تو جس ماحول میں وہ بیٹھتے ہیں ، کام کر رہے ہوتے ہیں ایسے ماحول میں بیٹھ کر ان کے ذہن بہر حال گندے ہو چکے ہوتے ہیں۔اور سوائے کسی استثناء کے الا ماشاء اللہ ، اچھی زبان ان کی نہیں ہوتی اور نہ خیالات اچھے ہوتے ہیں۔پاکستان میں تو میں نے دیکھا ہے کہ عموماً یہ لڑ کے تسلی بخش نہیں ہوتے۔تو ماؤں کو بھی ہوش کرنی چاہئے کہ اگر ان کی عمر پر دے کی عمر سے گزر چکی ہے تو کم از کم اپنی بچیوں کا تو خیال رکھیں۔کیونکہ ان کام کرنے والے لڑکوں کی نظریں تو آپ نیچی نہیں کر سکتے۔یہ لوگ باہر جا کر تبصرے بھی کر سکتے ہیں اور