اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 75
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 75 خطبہ جمعہ 30 جنوری 2004 بمقام بیت الفتوح لندن پھر بچیوں کی ، خاندان کی بدنامی کا باعث بھی ہو سکتے ہیں۔ایک دفعہ حضرت خلیفہ مسیح الرابع رحمہ اللہ نے فرمایا تھا کہ احمدی لڑکے ، خدام، اطفال کی ٹیم بنائی جائے جو اس طرح شادیوں وغیرہ پر کام کریں۔خدمت خلق کا کام بھی ہو جائے گا اور اخراجات میں بھی کمی ہو جائے گی۔بہت سے گھر ہیں جو ایسے بیروں وغیرہ کو رکھنا Afford ہی نہیں کر سکتے لیکن دکھاوے کے طور پر بعض لوگ بلا بھی لیتے ہیں تو اس طرح احمدی معاشرے میں باہر سے لڑ کے بلانے کا رواج بھی ختم ہو جائے گا۔خدام الاحمدیہ، انصار اللہ یا اگر لڑکیوں کے فنکشن ہیں تو لجنہ اماءاللہ کی لڑکیاں کام کریں۔اور اگر زیادہ ہی شوق ہے کہ ضرور ہی خرچ کرنا ہے،Servc کرنے والے لڑکے بلانے ہیں یا لوگ بلانے ہیں تو پھر مردوں کے حصے میں مرد آئیں۔یہاں میں نے دیکھا ہے کہ عورتیں بھی Serve کرتی ہیں عورتوں کے حصے میں، تو وہاں پھر عورتوں کا انتظام ہونا چاہئے اور اس بارہ میں کسی بھی قسم کے احساس کمتری کا شکار نہیں ہونا چاہئے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ بعض لوگ دیکھا دیکھی خرچ کر رہے ہوتے ہیں تو یہ ایک طرح کا احساس کمتری ہے۔کسی قسم کا احساس کمتری نہیں ہونا چاہئے۔اگر یہ ارادہ کر لیں کہ ہم نے قرآن کے حکم کی تعمیل کرنی ہے اور پاکیزگی کو بھی قائم رکھنا ہے تو کام تو ہو ہی جائے گا لیکن اس کے ساتھ ہی آپ کو ثواب بھی مل رہا ہوگا۔اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں پھر فرمایا کہ زینت ظاہر نہ کرو۔اس کا مطلب یہی ہے کہ جیسا عورتوں کو حکم ہے میک آپ وغیرہ کر کے باہر نہ پھریں۔باقی قد کاٹھ، ہاتھ پیر، چلنا پھرنا، جب باہر نکلیں گے تو نظر آ ہی جائے گا۔یہ زینت کے زمرے میں اس طرح نہیں آتے کیونکہ اسلام نے عورتوں کے لئے اس طرح کی قید نہیں رکھی۔تو فرمایا کہ جو خود بخود ظاہر ہوتی ہو اس کے علاوہ باقی چہرے کا پردہ ہونا چاہئے اور یہی اسلام کا حضرت مصلح موعودؓ نے اس کی ایک تشریح یہ فرمائی تھی کہ ماتھے سے لے کر ناک تک کا پردہ ہو۔پھر چادر سامنے گردن سے نیچے آرہی ہو۔اس طرح بال بھی نظر نہیں آنے چاہئیں۔سکارف یا چادر جو بھی چیز عورت اوڑھے وہ پیچھے سے بھی اتنی لمبی ہو کہ بال وغیرہ چھپ جاتے ہوں۔