اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 73
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 73 خطبہ جمعہ 30 جنوری 2004 بمقام بیت الفتوح لندن اسی کے ساتھ وابستہ ہے۔چاہے اسے چھوٹی سمجھیں یا نہ سمجھیں۔اور یہ آخری شرعی کتاب جو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پراتاری ہے اس کی تعلیم بھی فرسودہ اور پرانی نہیں ہوسکتی۔اس لئے جن کے دلوں میں ایسے خیالات آتے ہیں وہ اپنی اصلاح کی کوشش کریں اور استغفار کریں۔مردوں اور عورتوں کو غض بصر سے کام لینے کا حکم ان آیات میں جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان کو میں مزید کھولتا ہوں۔سب سے پہلے تو مر دوں کو حکم ہے کہ غض بصر سے کام لیں۔یعنی اپنی آنکھ کو اس چیز کو دیکھنے سے روکے رکھیں جس کا دیکھنا منع ہے۔یعنی لا وجہ نامحرم عورتوں کو نہ دیکھیں۔جب بھی نظر اٹھا کر پھریں گے تو پھر تجس میں آنکھیں پیچھا کرتی چلی جاتی ہیں اس لئے قرآن شریف کا حکم ہے کہ نظریں جھکا کے چلو۔اسی بیماری سے بچنے کے لئے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ نیم وا آنکھوں سے چلو۔یعنی ادھ کھلی آنکھوں سے ،راستوں پر پوری آنکھیں پھاڑ کر نہ چلو۔بند بھی نہ ہوں کہ ایک دوسرے کو ٹکریں مارتے پھرو۔لیکن اتنی کھلی ہوں کہ کسی بھی قسم کا تجسس ظاہر نہ ہوتا ہو کہ جس چیز پر ایک دفعہ نظر پڑ جائے پھر اس کو دیکھتے ہی چلے جانا ہے۔نظر کس طرح ڈالنی چاہئے اس کی آگے حدیث سے وضاحت کروں گا۔لیکن اس سے پہلے علامہ طبری کا جو بیان ہے وہ پیش کرتا ہوں۔وہ کہتے ہیں کہ غض بصر سے مراد اپنی نظر کو ہر اس چیز سے روکنا ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے“۔( تفسیر الطبری جلد 18 ص116-117) تو مردوں کے لئے تو پہلے ہی حکم ہے کہ اپنی نظریں نیچی رکھو۔اور اگر مرد اپنی نظریں نیچی رکھیں گے تو بہت سی برائیوں کا تو یہیں خاتمہ ہو جاتا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ: ”ہر ایک پر ہیز گار جو اپنے دل کو پاک رکھنا چاہتا ہے اس کو نہیں چاہئے کہ حیوانوں کی طرح جس طرف چاہے بے محابا نظر اُٹھا کر دیکھ لیا کرے بلکہ اس کے لئے اس تمدنی زندگی میں غض بصر کی عادت ڈالنا ضروری ہے اور یہ وہ مبارک عادت ہے جس سے اس کی یہ طبعی حالت ایک بھاری خلق کے رنگ میں آجائے گی“ اسلامی اصول کی فلاسفی ، روحانی خزائن جلد نمبر 10 ص344)