اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 46 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 46

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 46 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب اجنبی مردوں کو دکھاتی پھرتی ہو تو اس عورت کو اُس کے فعل کی وجہ سے عذاب دیا جائے گا۔(سنن النسائى كتاب الزينة من السنن الكراهية للنساء في اظهار الحلي والذهب) أم المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ اس دوران کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے۔مزینہ قبیلہ کی ایک عورت بڑے ناز و ادا سے زیب وزینت کئے ہوئے مسجد میں داخل ہوئی۔اس پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا! اے لوگو! اپنی عورتوں کو زیب وزینت اختیار کرنے اور مسجد میں ناز و ادا سے مٹک مٹک کر چلنے سے منع کرو۔بنی اسرائیل پر صرف اس وجہ سے لعنت کی گئی کہ ان کی عورتوں نے زیب و زینت اختیار کر کے ناز نخرے کے ساتھ مسجدوں میں اترا کر آنا شروع کر دیا تھا۔(سنن ابن ماجه، کتاب الفتن، باب فتنة النساء) اس حدیث سے یہ پتہ چلا کہ نمائش کی خاطر اپنی بڑائی ظاہر کرنے کے لئے تمہیں عورتوں میں بھی زیور اس طرح اظہار کے ساتھ دکھانے کی ضرورت نہیں جس سے معاشرے میں فساد پیدا ہو جائے۔ٹھیک ہے تم نے زیور پہن لیا۔جب فنکشن ہو رہے ہوں تو عورت کی عورت پر نظر پڑ جاتی ہے۔اس کے زیور کی ، اُس کے کپڑوں کی تعریف بھی کر دیتی ہیں۔یہاں تک تو ٹھیک ہے۔لیکن جس نے نیا زیور بنایا ہو وہ دوسری عورتوں کو بلا بلا کر دکھائے کہ دیکھو یہ زیور میں نے اتنے میں بنایا ہے تمہیں بھی پسند آیا تم بھی بناؤ ، اپنے خاوند سے کہو کہ بنوا کر دے۔تو بہت سی کمز ور طبع عورتیں ایسی ہوتی ہیں کہ ایسی عورتوں کی باتوں میں آجاتی ہیں اور اپنے خاوندوں پر زور دیتی ہیں کہ مجھے بھی بنا کر دو۔اگر اُن کے خاوند میں اتنی طاقت نہ ہو کہ وہ زیور بنا سکے تو پھر دوہی صورتیں ہوتی ہیں یا تو گھروں میں فساد پڑ جاتے ہیں ، میاں بیوی کے تعلقات خراب ہو جاتے ہیں یا پھر یہ ہوتا ہے کہ خاوند قرض لے کر بیوی کی خواہش کو پورا کرتا ہے۔لیکن پھر ان قرضوں کی وجہ سے اعصاب زدہ ہو جاتا ہے کیونکہ آج کل کے اس دور میں جب ہر جگہ مہنگائی کا دور ہے ہر قسم کی خواہش پوری کرنا ہر خاوند کے بس کی بات نہیں ہوتی۔تو نمود و نمائش کرنے والیوں کو بھی خوف خدا کرنا چاہئے۔لوگوں کے گھر نہ اُجاڑیں اور کم طاقت والی عورتیں بھی صرف دنیا داری کی خاطر اپنے گھروں کو جہنم نہ بنائیں۔پھر اس حدیث میں آگے یہ فرمایا کہ مسجد تو عبادت کی جگہ ہے۔یہاں ایسی عورتوں کو نہیں آنا چاہئے