اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 47 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 47

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 47 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب جن کا مقصد صرف نمود و نمائش ہو۔مسجد ہے، کوئی فیشن ہال نہیں ہے۔یہاں عبادت کی غرض سے جاتے ہیں۔اس لئے یہاں جب آؤ تو خالصتا اللہ کی خاطر اُس کی عبادت کرنے کی خاطر یا اُس کا دین سیکھنے کی خاطر آؤ۔یہی رویہ، یہی طریق جماعتی فنکشن میں ، اجلاسوں میں اجتماعوں وغیرہ پر بھی ہونا چاہئے۔یہ بھی اللہ تعالیٰ کا جماعت پر احسان ہے کہ بہت سی عورتیں ایسی ہیں جو الحمد للہ جذبہ ایمانی سے سرشار ہیں اور قربانی کی ایسی اعلیٰ مثالیں قائم کرتی ہیں کہ جن کی نظیر نہیں ملتی اور اپنے زیور اتارا تار کر جماعت کے لئے پیش کرتی ہیں۔مختلف چندوں میں تحریکوں میں دیتی ہیں۔لیکن وہ جو نمودونمائش کی طرف چل پڑی ہیں، دنیا داری میں پڑ گئی ہیں وہ خود اپنے آپ کو دیکھیں اور اپنا محاسبہ کریں۔پھر یہ ہے کہ بعض عورتوں کو دوسروں کی ٹوہ میں رہنے کی عادت ہوتی ہے۔باتیں سننے کے لئے تجس ہوتا ہے۔اس کوشش میں لگی رہتی ہیں کہ کسی طرح کوئی بات پتہ لگ جائے۔لیکن پوری طرح اس بات کا علم تو نہیں پاسکتیں۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بدظنی پیدا ہوتی ہے۔پھر ایک نیا فساد شروع ہو جاتا ہے۔پھر اس بدظنی کے نتیجے میں بغض ، کینے ، حسد شروع ہو جاتے ہیں۔پھر اپنے دلوں سے نکل کر اپنے گھر والوں کے دلوں میں یہ حسد اور کینے چلے جاتے ہیں۔پھر ماحول پر اثر انداز ہو رہے ہوتے ہیں۔اور پھر جیسا کہ میں نے کہا نہ ختم ہونے والا ایک فساد شروع ہو جاتا ہے۔اس لئے حدیث میں آیا ہے کہ بدظنی سے بچو۔حضرت ابو ہر یہ کاروایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ظن سے بچو کیونکہ طن سب سے جھوٹی بات ہے۔اور تجسس نہ کرو اور کسی بات کی ٹوہ میں نہ لگے رہو اور دنیا طلبی میں نہ پڑو اور تم حسد نہ کرو اور تم بغض نہ رکھو اور باہمی اختلاف میں مبتلا نہ ہو جاؤ اور اے اللہ کے بندو! بھائی بھائی بن جاؤ۔(مسلم۔باب تحریم الظن، بخاری کتاب الادب ) حضرت اقدس مسیح موعود اس سلسلہ میں عورتوں کو نصیحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : غیبت کرنے والے کی نسبت قرآن کریم میں ہے کہ وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے“۔فرمایا کہ عورتوں میں یہ بیماری بہت ہے۔آدھی رات تک بیٹھی غیبت کرتی ہیں اور پھر صبح