اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 36
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 36 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب حالات کا رونا، خاوندوں سے لڑائی جھگڑے، انہیں برا بھلا کہنا، مطالبے کرنا۔تو اس قسم کی حرکتوں کا نتیجہ پھر اچھا نہیں نکلتا۔خاوند اگر ذرا سا بھی کمزور طبیعت کا مالک ہے تو فوراً قرض لے لیتا ہے کہ بیوی کے شوق کسی طرح پورے ہو جائیں اور پھر قرض کی دلدل ایک ایسی دلدل ہے کہ اس میں پھر انسان دھنستا چلا جاتا ہے۔ایسے حالات میں کامل وفا کے ساتھ خاوند کا مددگار ہونا چاہئے ،گزارا کرنا چاہئے۔پھر چھوٹے بچوں سے شفقت کا سلوک کرنا چاہئے۔جیسا کہ ایک حدیث میں عورت کی جو خصوصیات بیان کی گئیں ہیں ان میں آیا ہے کہ بچوں سے شفقت کرتی ہیں اور خاوندوں کی فرمانبردار ہیں تا کہ اُن کی تربیت بھی اچھی ہو، اُن کی اُٹھان اچھی ہو اور وہ معاشرے کا مفید وجود بن سکیں۔تو اسلام صرف تمہارے حقوق نہیں قائم کرتا، جس طرح یورپ میں ہے کہ عورت کے حقوق ، فلاں کے حقوق، بلکہ تمہاری نسلوں کے حقوق بھی قائم کرتا چلا جاتا ہے۔ذرا سی بات پر شور شرابہ کرنے والی عورتوں کو یہ حدیث بھی ذہن میں رکھ کر استغفار کرتے رہنا چاہئے۔حضرت ابن عباس بیان کرتے ہیں کہ " آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : مجھے آگ دکھائی گئی تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں داخل ہونے والوں کی اکثریت عورتوں کی ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ کفر کا ارتکاب کرتی ہیں۔عرض کیا گیا کہ کیا وہ اللہ کا انکار کرتی ہیں؟۔آپ نے فرمایا: نہیں وہ احسان فراموشی کی مرتکب ہوتی ہیں۔اگر تو اُن میں سے کسی سے ساری عمر احسان کرے اور پھر وہ تیری طرف سے کوئی بات خلاف طبیعت دیکھے تو کہتی ہے میں نے تیری طرف سے کبھی کوئی بھلائی نہیں دیکھی۔“ (صحیح بخاری کتاب الايمان باب كفران العشيروكفر دون كفر فيه) پس ہر عورت کیلئے مقام خوف ہے، بہت استغفار کرے۔پھر اسلام تمہارے حقوق قائم کرنے کیلئے کس طرح مردوں کو ارشاد فرما رہا ہے۔مردوں کو تم پر سختی کرنے سے کس طرح روک رہا ہے۔تھوڑی بہت کمیوں کمزوریوں کو نظر انداز کرنے کے بارے میں مردوں کو کس طرح سمجھایا جا رہا ہے۔ایسی مثال دی ہے کہ مغربی معاشرے کے ذہن میں بھی کبھی ایسی مثال نہیں آسکتی جیسا کہ اس حدیث میں آتا ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں ، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: