اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 35 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 35

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 35 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب اپنے مسئلہ اور کیس کو پیش کر سکتی ہے؟ صحابہ نے عرض کیا حضور ! ہمیں تو گمان بھی نہیں تھا کہ کوئی عورت اتنی عمدگی کے ساتھ اور اتنے اچھے پیرایہ میں اپنا مقدمہ پیش کر سکتی ہے۔پھر آپ ﷺ اسماء کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا اے خاتون ! اچھی طرح سمجھ لو اور جن کی تم نمائندہ بن کر آئی ہو ان کو جا کر بتادو کہ خاوند کے گھر کی عمدگی کے ساتھ دیکھ بھال کرنے والی اور اُسے اچھی طرح سنبھالنے والی عورت کو وہی ثواب اور اجر ملے گا جو اُس کے خاوند کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر ملتا ہے۔(تفسير الدر المنثور۔تفسير سورة النساء۔زير آيت الرّجال قَوَّامُونَ عَلَى النِّساء) پھر ایک حدیث میں آتا ہے کہ:۔جس عورت نے پانچوں وقت کی نماز پڑھی اور رمضان کے روزے رکھے اور اپنے آپ کو بُرے کاموں سے بچایا اور اپنے خاوند کی فرمانبرداری کی اور اُس کا کہنا مانا ، ایسی عورت کو اختیار ہے کہ جنت میں جس دروازے سے چاہے داخل ہو جائے۔“ (مجمع الزوائد كتاب النكاح باب فى حق الزوك على المرأة) پھر ایک حدیث ہے موسیٰ بن علی رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد کو یہ کہتے ہوئے سُنا کہ حضرت ابو ہریرہ نے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سُنا کہ :۔اونٹوں پر سوار ہونے والی عورتوں میں سے بہترین عورتیں قریش کی عورتیں ہیں جو چھوٹے بچوں پر دوسروں کی نسبت زیادہ شفیق اور مہربان ہیں اور تنگی اور ترشی میں خاوندوں سے نرمی اور لطف کا سلوک کرنے والی ہیں۔“ (صحیح مسلم كتاب فضائل الصحابة) بعض عورتوں کی یہ عادت ہوتی ہے کہ بعض دفعہ حالات خراب ہو جاتے ہیں ، مرد کی ملازمت نہیں رہی یا کاروبار میں نقصان ہوا ، وہ حالات نہیں رہے، کشائش نہیں رہی تو ایک شور برپا کر دیتی ہیں کہ