اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 37
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 37 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب عورتوں کی بھلائی اور خیر خواہی کا خیال رکھو کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے اور پہلی کا سب سے زیادہ سمج حصہ اُس کا سب سے اعلیٰ حصہ ہوتا ہے۔اگر تم اُسے سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اُسے توڑ ڈالو گے اگر تم اُس کو اُسکے حال پر ہی رہنے دو گے تو وہ ٹیڑھا ہی رہے گا۔پس عورتوں سے نرمی کا سلوک کرو۔“ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: (صحیح بخاری کتاب الانبياء) عورتوں کے حقوق کی جیسی حفاظت اسلام نے کی ہے ویسی کسی دوسرے مذہب نے قطعا نہیں کی مختصر الفاظ میں فرما دیا ہے (البقرة: 229) وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِن کہ جیسے مردوں کے عورتوں پر حقوق ہیں ویسے ہی عورتوں کے مردوں پر ہیں۔بعض لوگوں کا حال سُنا جاتا ہے کہ ان بیچاریوں کو پاؤں کی جوتی کی طرح جانتے ہیں اور ذلیل ترین خدمات ان سے لیتے ہیں ، گالیاں دیتے ہیں ، حقارت کی نظر سے دیکھتے ہیں اور پردہ کے حکم ایسے ناجائز طریقے پر برتتے ہیں کہ ان کو زندہ درگور کر دیتے ہیں۔چاہئے کہ بیویوں سے خاوندوں کا ایسا تعلق ہو جیسے دو سچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔انسان کے اخلاق فاضلہ اور خدا تعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔اگر ان ہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: خَيْرُكُـ رُكُمْ لِاهْلِه تم میں سے اچھا وہ ہے جو اپنے اہل کے لئے اچھا ( ملفوظات جلد سوم، جدید ایڈیشن ، 300-301) تو یہ حسین تعلیم ہے جو اسلام نے عورتوں کے حقوق قائم کرنے کے لئے دی ہے۔تنبیہ کی بھی صرف اس حد تک اجازت ہے کہ تنبیہ کی حد تک ہی ہو۔یہ نہیں کہ ماردھاڑ اور ظلم زیادتی شروع