اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 32
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 32 32 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب ہے۔لیکن تمہارے بھی کوئی فرائض ہیں، کچھ ذمہ داریاں ہیں ، ان کو ادا کرو تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بے انتہا باش تم پر ہوگی۔اسلام نے عورت کو کیا مقام دیا ہے؟ اس سے کیا توقعات وابستہ رکھی ہیں؟ اس سلسلے میں ایک اقتباس حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کا پیش کرتا ہوں فرماتے ہیں: اسلام نے عورت کو ایک عظیم معلمہ کے طور پر پیش کیا ہے۔صرف گھر کی معلمہ کے طور پر نہیں بلکہ باہر کی معلمہ کے طور پر بھی۔ایک حدیث میں حضرت اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق یہ آتا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ آدھا دین عائشہ سے سیکھو۔اور جہاں تک حضرت عائشہ صدیقہ کی روایات کا تعلق ہے وہ تقریباًا آدھے دین کے علم پر حاوی ہیں۔بعض اوقات آپ نے علوم دین کے تعلق میں اجتماعات کو خطاب فرمایا اور صحابہ بکثرت آپ کے پاس دین سیکھنے کے لئے آپ کے دروازے پر حاضری دیا کرتے تھے۔پردہ کی پابندی کے ساتھ آپ تمام سائلین کے تشفی بخش جواب دیا کرتی تھیں“۔( خطاب حضرت خلیفة المسیح الرابع بر موقع جلسہ سالانہ انگلستان 26 جولائی 1986ء) تو یہ ہے عورت کے مقام کا وہ حسین تصور جو اسلام نے پیش کیا ہے جس سے ایک سمجھی ہوئی قابلِ احترام شخصیت کا تصور ابھرتا ہے۔وہ جب بیوی ہے تو اپنے خاوند کے گھر کی حفاظت کرنے والی ہے، جہاں خاوند جب واپس گھر آئے تو دونوں اپنے بچوں کے ساتھ ایک چھوٹی سی جنت کا لطف اُٹھا ر ہے ہوں۔جب ماں ہے تو ایک ایسی ہستی ہے کہ جس کی آغوش میں بچہ اپنے آپ کو محفوظ ترین سمجھ رہا ہے۔جب بچے کی تربیت کر رہی ہے تو بچے کے ذہن میں ایک ایسی فرشتہ صفت ہستی کا تصور ابھر رہا ہے جو کبھی غلطی نہیں کر سکتی ، جس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔اس لئے جو بات کہہ رہی ہے وہ یقیناً صحیح ہے ، بیچ ہے۔اور پھر بچے کے ذہن میں یہی تصوراً بھرتا ہے کہ میں نے اس کی تعمیل کرنی ہے۔اسی طرح جب وہ بہو ہے تو بیٹیوں سے زیادہ ساس سسر کی خدمت گزار اور جب ساس ہے تو بیٹیوں سے زیادہ بہوؤں سے محبت کرنے والی ہے۔اس طرح مختلف رشتوں کو گنتے چلے جائیں اور ایک حسین تصور پیدا کرتے چلے جائیں جو اسلام کی تعلیم کے بعد عورت اختیار کرتی ہے۔تو پھر ایسی عورتوں کی باتیں اثر بھی کرتی ہیں اور ماحول میں ان کی چمک بھی نظر آ رہی ہوتی ہے۔