اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 33
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 33 جلسہ سالانہ جرمنی 2003 لجنہ اماءاللہ سے خطاب حدیث میں آتا ہے حضرت عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک کی جواب دہی ہوگی۔امام نگران ہے اس کی جواب دہی ہوگی۔آدمی اپنے گھر والوں پر نگران ہے اور اُس سے جواب طلبی ہوگی۔اور عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے اور اُس سے اُس بارے میں بھی جواب طلبی ہوگی۔اور غلام اپنے آقا کے مال کا نگران ہے اور اُس سے بھی جواب دہی ہوگی۔سنو! تم میں سے ہر ایک نگران ہے اور تم میں سے ہر ایک سے اُس کی نگرانی کے متعلق جواب طلب کیا جانے والا ہے۔“ (صحیح بخارى كتاب الجمعة۔صحيح مسلم كتاب الامارة۔) عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے:۔یہاں کیونکہ میں عورتوں کے متعلق باتیں کر رہا ہوں اس لیے اُن کے بارے میں عرض کرتا ہوں جیسا کہ اس حدیث میں آیا اور میں پہلے بھی بیان کر چکا ہوں کہ عورت اپنے خاوند کے گھر کی نگران ہے۔اُس کی دیکھ بھال، صفائی ستھرائی ، ٹکاؤ، گھر کا حساب کتاب چلانا، خاوند جتنی رقم گھر کے خرچ کے لئے دیتا ہے اُسی میں گھر چلانے کی کوشش کرنا ، پھر بعض سگھڑ خواتین ایسی ہوتی ہیں جو تھوڑی رقم میں بھی ایسی عمدگی سے گھر چلا رہی ہوتی ہیں کہ دیکھ کر حیرت ہوتی ہے کہ کس طرح اتنی تھوڑی رقم میں اس عمدگی سے گھر چلا رہی ہیں۔اور اگر معمول سے بڑھ کر رقم ملے تو پس انداز بھی کر لیتی ہیں، بچا بھی لیتی ہیں اور اس سے گھر کے لئے کوئی خوبصورت چیز بھی خرید لیتی ہیں یا پھر بچیوں کے جہیز کے لئے کوئی چیز بنالی۔تو ایسی مائیں جب بچوں کی شادی کرتی ہیں تو حیرت ہوتی ہے کہ اتنی تھوڑی آمدنی والی نے ایسا اچھا جہیز کس طرح اپنی بچیوں کو دے دیا۔اس کے مقابل پر بعض ایسی ہیں جن کے ہاتھوں میں لگتا ہے کہ سوراخ ہیں۔جتنی مرضی رقم ان کے ہاتھوں میں رکھتے چلے جاؤ، پتہ ہی نہیں چلتا کہ پیسے کہاں گئے۔اچھی بھلی آمدنی ہوتی ہے اور گھروں میں ویرانی کی حالت نظر آرہی ہوتی ہے۔بچوں کے حلیے ، ان کی حالت ایسی ہوتی ہے لگتا ہے کہ جیسے کسی فقیر کے بچے ہیں۔ایسی ماؤں کے بچے پھر احساس کمتری کا بھی شکار ہو جاتے ہیں اور پھر بڑھتے بڑھتے ایسی حالت کو پہنچ جاتے ہیں جب وہ بالکل ہی