اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 346
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 346 نیشنل اجتماع لجنہ اماءاللہ یو کے 2005 ء حضرت مصلح موعودؓ کے زمانے میں، ایک لڑکی کی مثال دیتے ہوئے وہ کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ ہوا کالج کی ایک سٹوڈنٹ میرے پاس آئی اور مجھے ایک رقعہ دیا جس میں دین کی خدمت کے لئے وقف کرنے کا لکھا ہوا تھا تو حضرت مصلح موعودؓ نے اس سے کہا کہ ابھی تو ہمارے پاس ایسا نظام نہیں ہے کہ ہم لڑکیوں سے کوئی دین کی خدمت لے سکیں اور لڑکیاں دین کی خدمت کے لئے وقف کر سکیں۔یہی ہوسکتا ہے کہ تم کسی واقف زندگی سے شادی کر لوتو وہ خاموش ہو کر چلی گئی۔لیکن اس کی نیت نیک تھی۔کچھ عرصہ بعد اس کا واقف زندگی سے رشتہ ہو گیا لیکن اس کا باپ نہیں مانتا تھا۔وہ پھر حضرت خلیفۃ اسیح الثانی کے پاس روتی ہوئی آئی کہ ایک واقف زندگی کا رشتہ آیا ہواہے اور میرا باپ نہیں مان رہا تو حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے حضرت مولانا ابوالعطا صاحب کے ذریعے سے اس کے باپ کو سمجھوایا کہ بچی کا رشتہ کر دو۔خیر باپ بھی مان گیا۔اس کا رشتہ ہونے کے کچھ عرصہ بعد پھر وہ روتی ہوئی آئی کہ اب میرا باپ کہتا ہے تمہاری شادی تو ہو گئی لیکن اگر تم واقف زندگی کے ساتھ ملک سے باہر گئی تو میں تمہارا منہ نہیں دیکھوں گا۔انہوں نے کہا کہ اب میں بیمار ہوں اب مجھے تنگ نہ کرو۔انہوں نے پھر حضرت مولانا ابو العطاء صاحب کو بھیجا۔انہوں نے پھر اس کے باپ کو جا کر سمجھایا تو خیر مسئلہ حل ہو گیا۔تو یہ اس احمدی بچی کی کچی روح اور تڑپ تھی جس کی وجہ سے وہ چاہتی تھی کہ میں دین کے لئے وقف کروں لیکن مرد راستے میں روک تھے۔پس آج اس وقت کی لڑکی اور ویسی ہی بہت ساری لڑکیوں کی اپنی اولادوں کی نیک تربیت کا اثر ہے کہ باوجود اس کے کہ بعض معاملات میں جیسا کہ میں نے کہا تقویٰ کا معیار پہلے سے کم ہوا ہے خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے وقف زندگی اور دوسری بعض مالی قربانیوں کا معیار اور خواہش بڑھی ہے۔تحریک وقف نو اور تربیتی ذمہ داریاں اب وقف نو کی تحریک جیسا کہ ہم دیکھتے ہیں آج تک بڑے جوش سے ، بڑے جذبے سے مائیں اور باپ اپنے بچوں کو ، (زیادہ تر مائیں اپنے بچوں کو پیش کرتی ہیں ) وقف نو میں زندگی وقف کے لئے پیش کر رہے ہوتے ہیں۔لڑکا ہو یا لڑکی اس بات کی پرواہ نہیں کرتے کہ وقف کرنے کے بعد جب یہ بڑی ہوگی تو بچی یا بچے کو کہاں بھیجا جائے گا۔جو بچیاں بڑی ہوگئی ہیں ان میں سے کئی کو مختلف ملکوں میں میں نے پوچھا ہے نہ ان کو پرواہ ہے نہ ان کے ماں باپ کو پرواہ ہے کہ آج جماعت ان سے