اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 338 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 338

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 338 نیشنل اجتماع لجنہ اماءاللہ یو کے 2005 ء پیش کر دیتی ہیں۔لیکن دوسری جو چیزیں ہیں عبادت وغیرہ اُس کی طرف بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔پس جب تک اللہ تعالیٰ کی ذات پر کامل یقین اور اُس کی عبادتوں کی طرف توجہ رہے گی اُس کی راہ میں جان مال اور وقت کی قربانی کا تصور قائم رہے گا اور کرتی رہیں گی کوئی چیز بھی آپ کی ترقی کی راہ میں روک نہیں بن سکتی۔پھر فرمایا کہ ایک خصوصیت یہ بھی ہے جس پر ہر مسلمان اور مومنہ عورت کو قائم ہونا چاہیے کہ وہ فرمانبردار ہو۔اللہ تعالیٰ کے احکامات کی پابندی کرنے والی ہو، نظام جماعت کی مکمل اطاعت کرنے والی ہو۔لجنہ کی تنظیم احمدی عورتوں کی تربیت کے لئے بنائی گئی ہے لجنہ کی تنظیم جو احمدی عورتوں کی تربیت کے لئے بنائی گئی ہے اسی لئے بنائی گئی ہے کہ احمدی عورتوں میں یہ احساس ہو کہ ہماری جماعت میں الگ اور علیحدہ پہچان ہے ہماری کوئی اہمیت ہے اور اگر مردوں کے مقابلے پر بعض کام کرنے کے موقعے نہیں ملتے تو اپنی تنظیم کے تحت ہم وہ کام کریں جن سے بعد میں ظاہر ہوتا ہو کہ عورتوں نے کتنا کام کیا ہے اور مردوں نے کتنا کام کیا ہے۔تو بہر حال یہ احساس ہر وقت رہنا چاہیے کہ اس پہچان کو ہم نے جماعت کے وقار کے لئے قائم رکھنا ہے اور مزید نکھارنا ہے۔اور اس مقصد کے لئے آپ کے مختلف پروگرام بنتے ہیں، تربیتی اجلاسات ہوتے ہیں، اجتماعات ہوتے ہیں۔یہ اجتماع ہو رہا ہے تو اپنی تربیت کے لئے اپنے علم میں اضافے کے لئے اپنی فرماں برداری کا ثبوت دینے کے لئے ، اپنی اولاد میں نظام جماعت کی روح پیدا کرنے کیلئے۔ضروری ہے کہ اجتماعوں جلسوں اور اجلاسوں کے یہ جو سارے پروگرام ترتیب دئے جاتے ہیں آپ لوگ بڑھ چڑھ کر ان میں حصہ لیں۔جو اس معاملے میں کمزور بہنیں ہیں ان کو بھی اپنے ساتھ ملائیں ان کو بھی پیار اور محبت سے سمجھا کر ان پروگراموں میں شامل کریں اس سے آپ اپنی اصلاح کے ساتھ ساتھ دوسرے کی اصلاح کی فکر بھی کر رہی ہوں گی اور اس وجہ سے دو ہرا ثواب کما رہی ہوں گی اور یہ جو دوسروں کی اصلاح کی فکر ہے یہ بھی انبیاء کی سنت ہے۔انبیاء کوسب سے زیادہ فکر اس بات کی رہتی ہے۔کوئی یہ نہ سمجھے اس کی ضرورت نہیں ہے کہ پرائے معاملے میں ٹانگ اڑانے والی بات