اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 339 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 339

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 339 نیشنل اجتماع لجنہ اماءاللہ یو کے 2005 ء ہے۔نہیں، بلکہ یہ فکر کرنی چاہیے لیکن طریقے سے، پیار سے، محبت سے۔حدیث میں آیا ہے کہ جو چیز تم اپنے لئے پسند کرتے ہو وہ دوسروں کے لئے بھی پسند کر و۔تو جب ایک چیز آپ نے اپنے لئے پسند کی ہے تو اس نیکی کو دوسروں میں رائج کرنے کی کوشش کریں اس سے آپ معاشرے میں نیکیاں بکھیر رہی ہونگی اور جب آپ اس طرح عورت کی اصلاح کر رہی ہوں گی تو مستقبل کی نسلوں کی بھی اصلاح کر رہی ہوں گی۔سچائی پر قائم رہنا اور جھوٹ سے بچنا پھر جس بات کی ہم سے توقع کی جاتی ہے اور وہ انتہائی اہم بات ہے۔وہ سچائی ہے۔اگر تم سچ پر قائم رہنے والی ہو اور سچائی پھیلانے والی بن جاؤ گی تو معاشرے کے حسن کو نکھارنے میں بہت بڑا کردار ادا کر رہی ہوگی۔اگر عورت میں یہ احساس ہو جائے کہ میں نے بیچ پر قائم رہنا ہے اور ہر حالت میں جھوٹ کو اپنے قریب نہیں پھٹکنے دینا تو یہ ایک ایسا جہاد ہے جس سے نہ صرف اپنے آپ کو شرک سے پاک کر رہی ہوں گی بلکہ معاشرے کو بھی اس شرک سے پاک کرنے والی ہوں گی اور اپنی اولادوں کے دل میں بھی جھوٹ اور شرک کے خلاف احساس پیدا کر رہی ہوں گی اُن کی بھی تربیت کر رہی ہوں گی۔اللہ تعالیٰ نے جھوٹ کو بھی شرک کے برابر قرار دیا ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں میں غلط بیانیاں جو ہیں یہ ہوتے ہوتے بڑے بڑے جھوٹ بنے شروع ہو جاتے ہیں۔بچے ماؤں کی حرکتیں دیکھ رہے ہوتے ہیں اُن کے زیر تربیت ہوتے ہیں۔وہ جیسا ماں کو دیکھتے ہیں تو غیر محسوس طریقے پر ویسا خود بھی ہو جاتے ہیں۔پس میں آپ عورتوں اور بچیوں کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اگر معاشرے سے شرک کا خاتمہ اور اپنی اگلی نسلوں کی بقاء چاہتی ہیں اُن کو پاک بنانا چاہتی ہیں تو جھوٹ کو معاشرے سے ختم کرنے کے لئے اور سچ کو معاشرے میں قائم کرنے کے لئے ایک مہم چلائیں۔لجنہ اماءاللہ یو کے خاص طور پر اس پر کام کرے۔پہلے بھی میں اس بارے میں کئی دفعہ کہہ چکا ہوں۔اب سیچ صرف اتنا نہیں ہے کہ کہیں کسی نے پوچھا تو سچ بول دیا بلکہ قولِ سدید سے کام لینا ہے۔کوئی بھی ایسی بات نہیں کہنی جس سے ہلکا سا بھی جھوٹ کا شبہ پڑتا ہو یا کہیں بات چھپی نظر آتی ہو۔ہر احمدی کی جو