اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 337 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 337

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 337 نیشنل اجتماع لجنہ اماءاللہ یو کے 2005 ء صاف کر رہی ہوں گی۔لیکن بہر حال اس کے لئے قربانی کرنی پڑے گی۔اپنی اصلاح کی طرف توجہ دینی پڑے گی اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کی طرف توجہ دینی پڑے گی۔اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں سورۃ احزاب میں جس آیت کی ابھی میں نے تلاوت کی ہے عورتوں اور مردوں کو بتایا ہے کہ اگر تم یہ یہ کام کرو تو تمہاری مغفرت بھی ہے۔اس میں دس کام گنوائے گئے ہیں اور نہ صرف مغفرت ہے بلکہ اجر عظیم بھی ہے۔اور جب خدا تعالیٰ یہ کہے کہ میں اجر عظیم عطا کروں گا تو اُس عظیم کا مطلب ہے کہ ایسا اجر جس کا تم سوچ بھی نہیں سکتے ، ایسے انعامات جن کا تم تصور بھی نہیں کر سکتے۔تم اس دنیا میں بھی اس کے پھل کھاؤ گی اور مرنے کے بعد بھی یہ پھل ہیں یہ انعامات ہیں۔ان باتوں میں پہلی بات یہ بیان فرمائی کہ کامل مسلمان بنو۔صرف منہ سے کلمہ پڑھ کر مسلمان ہونے کا اظہار نہ کرو۔تمہارے دل میں اس تعلیم پر عمل کرنے کی طرف توجہ بھی ہونی چاہیے۔اور ایمان لانے کا اس سے اگلا قدم یہ ہے کہ جب تم نے یہ تسلیم کر لیا ہے کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور محمد اُس کے رسول ہیں اللہ تعالیٰ تمام قدرتوں کا مالک ہے اور رب العالمین ہے کائنات کی ہر چیز کی پیدائش اُس کی ہے، اُس نے پیدا کی ہے تو پھر اس بات کو اپنے دل میں راسخ کرو۔اس پر مکمل ایمان لاؤ اور ایمان کے تمام درجے طے کرو۔قرآن کریم میں ایک مومن کے لئے جو باتیں درج ہیں اُن پر عمل کرنے والی بنو اور ایمان کی تاریخ میں تو قرآن کریم کے شروع میں ہی ہمیں یہ بتایا گیا ہے کہ ایمان کامل تب ہو گا جب تم غیب پر ایمان لانے والی ہوگی۔یہ یقین ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ہے اور سب قوتوں کا مالک ہے۔نماز پڑھنے والی ، عبادت کرنے والی اور وقت پر نمازوں کی ادائیگی کرنے والی ہوگی۔اور پھر جب خدا تعالیٰ کی خاطر مالی قربانی میں بھی حصہ لو گی تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم اور خلفاء کی مستقل تربیت کی وجہ سے آج احمدی خواتین میں مالی قربانی کا جذبہ بہت بڑھا ہوا ہے۔احمدی خواتین کا اخلاص آج بعض خواتین انتہائی تنگی کی حالت میں بھی جب انہیں کہا جائے کہ دین کی خاطر قربانی کرو تو بے دریغ بڑھ چڑھ کر اس میں حصہ لے رہی ہوتی ہیں اور اپنی پسندیدہ چیزیں بعض دفعہ زیور وغیرہ بھی