اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 327 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 327

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 327 جلسہ سالانہ سویڈن 2005 مستورات سے خطاب خرچ جو غیر ضروری بھی ہیں اور نہ بھی کئے جائیں تو ان سے بچت ہوسکتی ہے۔بعضوں نے جوڑے بنانے ہیں، بعضوں نے زیور بنانا ہے۔اور بعضوں کو اتنا سخت کریز ہوتا ہے جوڑوں اور زیوروں کا کہ اگر نیا جوڑا ہر فنکشن میں نہ پہنا جائے تو سمجھتے ہیں کہ ہماری بے عزتی ہو گئی۔تو اس سے بھی بچنا چاہئے۔صرف جوڑوں اور زیوروں کی خاطر کمائیاں نہ کریں۔ضرورت کے تحت کرنی ہو تو ٹھیک ہے۔پیسہ کمانے کے شوق میں بچوں کی تربیت کی طرف توجہ نہیں دے رہے ہوتے اور اس طرح بچے ماں باپ کی مکمل توجہ نہ ہونے کی وجہ سے تباہ و برباد ہورہے ہوتے ہیں۔عورت گھر کی نگرانی کی ذمہ دار ہے اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عورت گھر کی نگران ہے۔خاوند کی جو اولاد ہے اُس کی وہ نگران ہے۔اس لئے ماؤں کو عورتوں کو بہر حال بچوں کی خاطر قربانی دینی چاہئے ، گھر میں رہنا چاہئے۔جب بچے سکول سے آئیں تو ان کو ایک پر سکون محبت والا ماحول میسر آنا چاہئے۔جائزہ لے لیں اس ماحول میں اکثر بچے اس لئے بگڑ رہے ہیں کہ وہ ماں باپ کے پیار سے محروم ہوتے ہیں۔ماں باپ کے پیار کے بھوکے ہوتے ہیں اور وہ ان کو ملتا نہیں۔ان کو توجہ چاہئے۔اور جو توجہ وہ چاہتے ہیں وہ ماں باپ ان کو دیتے نہیں۔اور ماں باپ جو ہیں وہ پیسے کمانے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں، اپنی دلچسپیوں میں مصروف ہیں۔پھر اس قتل نہ کرنے کا یہ بھی مطلب ہے کہ پیسہ کمانے کے لئے ایسی جگہوں میں نہ بھیجو جہاں ان کے دین سے دور جانے کا احتمال ہو۔جہاں یہ امکان ہو کہ وہ دین سے دور چلے جائیں گے۔بعض والدین پیسے کے لالچ میں کہ زیادہ سے زیادہ پیسہ آئے ، اپنے بچوں کو جب وہ ابتدائی بنیادی تعلیم سے فارغ ہوتے ہیں تو چھوٹی عمر میں ہی ایسی جگہوں پر، ریسٹورانٹوں میں، کلبوں میں یا اور جگہوں پر ملازم کر دیتے ہیں جہاں ان کے اخلاق خراب ہو رہے ہوتے ہیں۔تو ماؤں نے اگر اپنے بچوں کی صحیح تربیت کی ہوگی اور ایک درد کے ساتھ تربیت کی ہوگی تو ایک تو بچے خود بھی پڑھائی کی طرف توجہ دینے والے ہونگے اور معمولی تعلیم حاصل کر کے معمولی اور لغو نوکریاں تلاش نہیں کریں گے۔اور اگر کوئی ایسا ہو بھی جو تعلیم میں اچھا نہ ہو تو ماں کی تربیت کی وجہ سے ماں کی بات ماننے والا ہو گا۔اور اگر ملا زمت