اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 326 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 326

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 326 جلسہ سالانہ سویڈن 2005 مستورات سے خطاب لوگوں کا ایشینز (Asians) کی نسبت بہت اونچا ہے۔حالانکہ سب سے زیادہ سچائی کی تعلیم اور بڑی شدت سے سچائی کی تعلیم اسلام نے دی ہے۔لیکن بہر حال آزادی کے نام پر یہاں ان ملکوں میں بعض اخلاق سوز حرکتیں بھی ہوتی ہیں۔ان سے آپ نے خود بھی بچنا ہے اور اپنے بچوں کو بھی بچانا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ مِنْ إِمْلَاقٍ۔(سورة انعام :152) اور رزق کی تنگی کے خوف سے اپنی اولاد کو قتل نہ کرو۔اس کے بہت سے معانی کئے جاتے ہیں۔قرآن کریم کی تعلیم ہر زمانے کی تعلیم ہے۔کوئی اولادکو اس طرح قتل نہیں کرتا کہ چھری پھیری جائے۔پھر اس کا مطلب یہی ہے کہ ایسی تربیت نہ کرو جس سے تمہاری اولا د برباد ہو جائے۔اب تربیت کرنے کے لئے مختلف طریقے ہیں۔ان ملکوں میں جہاں بچوں کے لئے حکومت خرچ دیتی ہے رزق کی تنگی کا تو کوئی خوف نہیں ہے۔چھوٹے بچوں کو خرچ ملتا ہے۔بڑے ہو جائیں اور گھر میں رہ رہے ہوں تو تب بھی جو خرچ ملتا ہے اس سے تعلیم حاصل کی جاسکتی ہے اور بھی باتیں ہیں۔تو یہاں ان ملکوں کے لحاظ سے ، آپ کی نسبت کے لحاظ سے اس کا یہ مطلب ہے کہ ماں باپ دونوں پیسے کمانے کے شوق میں کام پر چلے جاتے ہیں۔بچوں کو یا گھروں میں چھوڑ جاتے ہیں یا بڑے بہن بھائی کے جن کی خود بھی ابھی تربیت کی عمر ہوتی ہے، ان کے سپرد کر جاتے ہیں۔پھر بچوں کو مصروف رکھنے کے لئے ایک آزادی ہوتی ہے کہ بچوں کو اگر کچھ بھی نہ دے کر جائیں تو یہاں بچے خود ہی ( کیونکہ ماں باپ تو موجود ہوتے نہیں ) ایسی فلمیں یا انٹرنیٹ پر ایسے پروگرام یا دوسری چیزیں ہیں ان میں مصروف ہو جاتے ہیں جن سے اور بہت سی بیہودہ قسم کی باتیں ان کو پتہ لگ جاتی ہیں۔حالانکہ بچوں کو ایسی فلمیں وغیرہ نہیں دیکھنی چاہئیں کہ ان کو دیکھ کر اخلاق خراب ہوتے ہیں۔یا ماں باپ کے سر پر موجود نہ ہونے کی وجہ سے ذرا بڑی عمر کے جو بچے ہوتے ہیں وہ زیادہ تر باہر وقت گزارتے ہیں اور ماحول کی برائیوں میں پڑ جاتے ہیں۔یا بعض ایسی خوفناک قسم کی شکائتیں آجاتیں ہیں کہ بعض لوگ اپنے بچوں کو اپنی طرف سے کسی قابل اعتبار شخص کے سپر د کر جاتے ہیں خاص طور پر لڑکیوں کو اور وہ ایسے گندے ذہن کے ہوتے ہیں کہ وہ ان بچیوں کے ساتھ ایسے بہیمانہ سلوک کر دیتے ہیں کہ ساری زندگی برباد ہو جاتی ہے۔مگر ماں باپ اس فکر میں ہیں کہ ہم نے تو اپنے خرچ پورے کرنے ہیں۔ایسے