اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 310
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 310 جلسہ سالانہ جرمنی 2005 مستورات سے خطاب مشکل آجائے اور سزا کا خطرہ ہو ہمیشہ سچ کا دامن پکڑے رہنا چاہئے۔تو جب اس حد تک آپ اپنے آپ میں تبدیلی پیدا کرنے کی کوشش کریں گی اور اس بیماری کو دور کرنے کی کوشش کریں گی ، جب اس حد تک آپ کے عمل میں سچائی پیدا ہو جائے گی تو جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، جومیں نے حدیث میں بیان کیا ہے یہ سچائی کا معیار ہونا چاہئے تو غیر محسوس طریق پر آپ اپنے بچوں کی ایسی تربیت کر رہی ہوں گی جہاں بچے تقویٰ اور سچائی کے ماحول میں پرورش پارہے ہوں گے۔حضرت اقدس مسیح موعود فرماتے ہیں کہ : 66 قرآن شریف نے جھوٹ کو بھی ایک نجاست اور رجس قرار دیا ہے۔گند قرار دیا ہے۔جیسا کہ فرمایا ہے۔فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ النُّوْرِ (الحج:31) دیکھو یہاں جھوٹ کو بُت کے مقابل رکھا ہے۔اور حقیقت میں جھوٹ بھی ایک بُت ہی ہے۔ورنہ کیوں سچائی کو چھوڑ کر دوسری طرف جاتا ہے۔جیسے بت کے نیچے کوئی حقیقت نہیں ہوتی اسی طرح جھوٹ کے نیچے بجر ملمع سازی کے اور کچھ بھی نہیں ہوتا۔جھوٹ بولنے والوں کا اعتبار یہاں تک کم ہو جاتا ہے کہ اگر وہ بیچ کہیں تب بھی یہی خیال ہوتا ہے کہ اس میں بھی کچھ جھوٹ کی ملاوٹ نہ ہو۔اگر جھوٹ بولنے والے چاہیں کہ ہمارا جھوٹ کم ہو جاوے تو جلدی سے دور نہیں ہوتا۔مدت تک ریاضت کریں تب جا کر سچ بولنے کی عادت ان کو ہوگی۔“ الحاکم قادیان جلد 6 نمبر 31 مورخہ 31 اگست 1902، صفحہ 2) پس ہر احمدی عورت کو جھوٹ کے خلاف بھی جہاد کرنا چاہئے۔اپنے آپ کو اتنا سا بنالیں کہ آپ کا ما حول آپ پر کبھی یہ کہ کر انگلی نہ اٹھا سکے کہ اس نے فلاں وقت میں فلاں بات جو کہی تھی اس میں یہ چیز غلط تھی۔آپ کا ہر ہر لفظ اور ہر فقرہ سچائی سے بھرا ہوا ہونا چاہئے۔سچائی کی ایک مثال ایک احمدی عورت کو ہونا چاہئے۔آپ کی سچائی کی دھاک اس قدر ہر ایک پر بیٹھنی چاہئے کہ ہر ایک آنکھ بند کر کے بغیر سوچے سمجھے آپ کی ہر بات کا اعتبار کرنے والا ہو۔اس کو یہ سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہو کہ اس نے کبھی غلط بیانی کرنی ہے۔اس حد تک آپ کے سچائی کے معیار ہونے چاہئیں۔جب یہ