اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 309
الازھار لذوات الخمار جلد سوم حصّہ اوّل 309 جلسہ سالانہ جرمنی 2005 مستورات سے خطاب پس ہر احمدی عورت کو جھوٹ کے خلاف بھی جہاد کرنا چاہئے ایک دو برائیوں کا اور بھی میں ذکر کر دیتا ہوں جو قرآن کریم میں درج ہیں، زیادہ تو نہیں کر سکتا۔مختلف برائیوں کا ذکر ہے جو تقویٰ سے دور لے جانے والی ہیں۔مثلاً جیسے فرمایا فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْأَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ النُّوْرِ (الحج:31) کہ پس بتوں کی پلیدی سے احتراز کرو اور جھوٹ کہنے سے بچو۔کیونکہ جھوٹ شرک کی طرف لے جاتا ہے۔جھوٹ بولنے والا خیال کرتا ہے کہ جھوٹ بول کر یا غلط بیانی کر کے اپنی چالا کی سے میں نے اپنی جان بچالی ہے یا اپنی جان بچالوں گا۔یا فلاں شخص سے اپنے مفاد حاصل کرلوں گا۔لوگوں کو تو دھوکہ دیا جا سکتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کو دھوکہ نہیں دیا جا سکتا۔پس اپنی اولاد کی تربیت کے لئے بھی ضروری ہے کہ ہر ماں اپنے سچ کے معیار کو بھی بلند سے بلند تر کرے۔ہلکی سی بھی ایسی بات اس سے نہیں ہونی چاہئے ، کوئی ایسی غلط بیانی بھی نہیں ہونی چاہئے جس سے بچے کے بیچ کا معیار متاثر ہو۔ایک دفعہ ایک عورت نے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی صحابیہ تھیں اپنے چھوٹے بچہ کو جو کھیلتا ہوا باہر جارہا تھا آواز دے کر کہا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی ساتھ بیٹھے ہوئے تھے کہ ادھر آؤ میں تمہیں ایک چیز دوں۔بچہ واپس مڑا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کیا دینے کے لئے تم نے بلایا ہے۔تو ماں نے کہا کہ اسے میں کھجور دینا چاہتی ہوں۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم اسے کچھ نہ دیتیں تو تم جھوٹ بولتیں۔(الدرالمنثور۔زیر آیت سورۃ التوبة ) تو اس حد تک احتیاط کا حکم ہے۔ہم اکثر یہ حدیث سنتے ہیں کئی دفعہ میں بیان بھی کر چکا ہوں اور بچوں کو بھی سناتے ہیں۔لیکن جب اپنے پر موقع آتا ہے تو غلط بیانی سے کام لے لیتے ہیں۔بعض کی تو یہ عادت بن جاتی ہے اور بن گئی ہے کہ وہ غلط اور جھوٹی بات کہہ جاتے ہیں اور احساس نہیں ہوتا کہ جھوٹ کہا ہے۔بات کر دیتے ہیں اور بات کر کے پھر اگر اس سے پوچھو کہ فلاں بات کی ہے؟ تو کہتے ہیں نہیں ، میں نے تو نہیں کی۔فوراً مگر بھی جاتے ہیں یا یاد نہیں رہتا یا یہ احساس ہی نہیں کہ سچ کیا ہے اور جھوٹ کیا ہے۔تو یہ جو عادت ہے اس کو بھی ترک کرنا چاہئے۔جو بات کہیں جیسے مرضی حالات ہو جائیں، جیسی مرضی آفت آجائے ،