اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 311
الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 311 جلسہ سالانہ جرمنی 2005 مستورات سے خطاب معیار آپ حاصل کرلیں گی تو جیسا کہ میں نے کہا ہے کہ جماعت احمدیہ کی اگلی نسلوں کے معیار سچائی جو ہیں وہ بھی اس قدر بلند ہو جائیں گے جن کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔اور جب سچائی اتنی پھیل جائے کہ جس کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا تو وہی دور ہوگا جب کوئی روک آپ کی راہ میں حائل نہیں ہو سکتی۔آپ پھیلتے چلے جائیں گے اور بڑھتے چلے جائیں گے۔اور کوئی نہیں جو آپ کے پیغام کو روک سکے۔کوئی نہیں جو احمدیت کی ترقی کو روک سکے۔اور یہی سچائی کے معیار ہیں جو اتنے بلند ہو جائیں تو اس کے سامنے جیسا کہ میں نے کہا کوئی اس کو روک نہیں سکتا۔اس کے سامنے دنیا کا ہر بُت پارہ پارہ ہو جاتا ہے۔اور جب آپ اپنی سچائی کے اس قدر معیار بلند کر لیں گی تو خدا کے ہاں بھی صدیقہ لکھی جائیں گی۔ایک حدیث میں آتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہیں سچ اختیار کرنا چاہئے کیونکہ سچ نیکی کی طرف رہنمائی کرتا ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔انسان سچ بولتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا ہے یہاں تک کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ہاں صدیق لکھا جاتا ہے۔اور پھر فرمایا جھوٹ بولنے والا کذاب لکھا جاتا ہے۔(ابوداؤد كتاب الأدب باب التشديد في الكذب) اللہ تعالیٰ آپ سب کو یہ صدق کے معیار حاصل کرنے کی توفیق دے۔اور کبھی ایسا وقت نہ آئے کہ اللہ کے ہاں کوئی احمدی عورت کذاب لکھی جانے والوں میں ہو۔خیانت سے بچیں جس نے معاشرہ میں فساد پیدا کیا ہوا ہے ایک بیماری جس نے معاشرہ میں فساد پیدا کیا ہوا ہے، خیانت بھی ہے۔خیانتوں کا صحیح ادراک نہیں ہے۔جس حد تک امانتوں کے معیار بلند ہونے چاہئیں وہ معیار بلند نہیں ہوتا۔تو ہر احمدی کو اپنی امانت کے معیار بھی اتنے بلند کرنے چاہئیں کہ کبھی اس سے خیانت کا تصور بھی نہ کیا جاسکے۔اوّل تو جھوٹ چھوڑنے سے ہی معیار اتنے بلند ہو جاتے ہیں کہ ہر دوسری برائی خود بخود چھوٹتی چلی جاتی ہے۔لیکن قرآن کریم میں اس کا بھی ذکر اس طرح آیا ہوا ہے اس لئے میں ذکر کر رہا ہوں۔