اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 304 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 304

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 304 جلسہ سالانہ جرمنی 2005 مستورات سے خطاب ساتھ جو مومنوں کو کی گئی ہے کہ کسی قوم کو حقیر نہ سمجھو کیونکہ اللہ کے نزدیک کوئی قوم بری نہیں۔تم جس کو بُرا سمجھ رہے ہو ، ہو سکتا ہے وہ اللہ کے نزدیک بہتر ہو۔ہاں بعض لوگوں کے بعض فعل ہیں جو اللہ کی راہ سے بغاوت کرنے والوں کے فعل ہیں۔اللہ تعالیٰ ان افعال کی وجہ سے ان لوگوں کو پسند نہیں کرتا۔لیکن یاد رکھو کہ یہ صرف خدا تعالیٰ کو پتہ ہے وہی ہے جو غیب کا علم رکھتا ہے۔وہ جانتا ہے کہ کون برا ہے، کون اچھا ہے۔وہ جانتا ہے کہ کن کے دلوں میں کیا بھرا ہوا ہے۔وہ جانتا ہے کہ آئندہ کس نے کس حالت میں ہونا ہے۔تم جو اپنے آپ کو بہتر سمجھ رہی ہو، ہوسکتا ہے کہ تمہارے میں برائیاں پیدا ہو جائیں اور جو برائیاں کرنے والا ہے ہو سکتا ہے اسے نیکیاں کرنے کی توفیق مل جائے۔اس لئے بلا وجہ کسی کو تحقیر سے نہ دیکھو۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ : قُلْ لَّا يَعْلَمُ مَنْ فِي السَّمواتِ وَالْأَرْضِ الْغَيْبَ إِلَّا الله (النمل: 66) (ترجمہ) پھر تو کہہ دے کہ آسمانوں اور زمین میں جو مخلوق بھی ہے خدا کے سوا ان میں سے کوئی غیب کو نہیں جانتا۔بغیر علم کے کسی کے بارہ میں تبصرہ کرنا پس جب تم کسی کے بارے میں علم نہیں رکھتے تو پھر بلا وجہ اس کے بارے میں رائے زنی کرنے کا، اس کے بارے میں تبصرے کرنے کا بھی تمہیں کوئی حق نہیں ہے۔تم جو دوسرے کو حقیر سمجھ کر ان کی عزت نفس کو مجروح کرنے کی کوشش کرتی ہو بعض دفعہ پبلک میں بیٹھ کر لوگوں میں بیٹھ کر مجلس میں بیٹھ کر دوسروں کے مذاق اڑائے جاتے ہیں۔یا بعض دفعہ بعض عورتوں کو عادت ہوتی ہے طنز کر دیتی ہیں۔ایسی چبھتی ہوئی بات کہہ دیتی ہیں جو اگلے کی تکلیف کا باعث بنتی ہے۔اس سے جہاں معاشرہ میں فساد پیدا ہوتا ہے وہاں خود اس لحاظ سے بھی وہ عورت گناہگار بن رہی ہوتی ہے یہ کہہ کر کہ میں اسے اچھی طرح جانتی ہوں ، یہ تو ہے ہی ایسی اور ویسی ، اس نے تو ایسی حرکتیں کرنی تھیں۔اس کا تو سارا خاندان ہی ایسا ہے۔تو یہ دعوے بھی اگر ایک بار یک نظر سے دیکھا جائے تو خدائی کے دعوے ہیں۔گویا یہ اظہار ہے کہ میں غیب کا علم رکھتی ہوں۔پس ہمیں یہ نصیحت فرمائی ہے کہ نیکی اس میں ہے کہ ان برائیوں کو چھوڑ دو۔ایک دوسرے پر طنز کے تیر برسانے چھوڑ دو۔ایک دوسرے کے عیب تلاش