اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 303 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 303

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 303 جلسہ سالانہ جرمنی 2005 مستورات سے خطاب ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہو جائیں۔اور نہ عورتیں ،عورتوں سے تمسخر کر میں ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہو جائیں۔اور اپنے لوگوں پر عیب مت لگایا کرو اور ایک دوسرے کو نام بگاڑ کر نہ پکارا کرو۔ایمان کے بعد فسوق کا داغ لگ جانا بہت بری بات ہے۔اور جس نے توبہ نہ کی تو یہی وہ لوگ ہیں جو ظالم ہیں۔اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! ظن سے بکثرت اجتناب کیا کرو۔یقینا بعض ظن گناہ ہوتے ہیں۔اور تجسس نہ کیا کرو۔اور تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے۔کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے۔پس تم اس سے سخت کراہت کرتے ہو۔اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔یقیناً اللہ بہت تو بہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔اے لوگو ! یقیناً ہم نے تمہیں نر اور مادہ سے پیدا کیا اور تمہیں قوموں اور قبیلوں میں تقسیم کیا تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔بلاشبہ اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ معزز وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔یقیناً اللہ دائمی علم رکھنے والا اور ہمیشہ باخبر ہے۔اگر عورت کی اصلاح ہو جائے تو معاشرہ سے فساد ختم ہو جائے یہ ہے وہ بنیادی تعلیم جو اگر معاشرے میں رائج ہو جائے تو یہ دنیا بھی انسان کے لئے جنت بن جائے۔عورتوں کی آبادی عموماً دنیا کے ہر ملک میں مردوں سے زیادہ ہے۔اگر عورت کی اصلاح ہو جائے اور تقوی پر قائم ہو جائے ، معاشرہ میں ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھنے لگ جائے تو بہت سے فساد جنہوں نے دنیا کے امن کو برباد کیا ہوا ہے ختم ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہاں بعض برائیوں سے رکنے اور تقویٰ پر قائم ہونے کی تلقین فرمائی ہے۔ان میں خاص طور پر عورتوں کا نام لے کر انہیں مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ اے عورتو! یہ برائیاں نہ کرو۔یہ عورت کی فطرت میں زیادہ ہے اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ انسان کی فطرت کو کون جان سکتا ہے۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کیونکہ یہ عورت کی فطرت میں ہے کہ وہ عموماً اپنی بڑائی بیان کرنے کی کوشش کرتی ہے، دوسرے کو اپنے سے کمتر سمجھنے کی کوشش کرتی ہے۔اس لئے اس عمومی نصیحت کے