اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 285 of 377

اَلْاَزْھَارُ لِذَوَاتِ الْخِمَارِ یعنی اوڑھنی والیوں کیلئے پھول (جلد سوم حصہ اوّل) — Page 285

الازهار لذوات الخمار جلد سوم حصہ اوّل 285 جلسہ سالانہ یو کے 2005 مستورات سے خطاب ہمیں مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی تا کہ ہم اللہ تعالیٰ کی راہوں کو پانے کی طرف توجہ کریں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر غور کرنے والے اور ان پر عمل کرنے والے ہوں اور اپنی زندگی کے مقصد کو سمجھنے والے ہوں۔یہ جو آیات تلاوت کی گئی ہیں (جو پہلے ان میں سے چار آیات تلاوت کی گئی تھیں ان میں سے دو میں نے تلاوت کی ہیں )۔آپ ترجمہ ان کا سن چکے ہیں دوبارہ میں پیش کر دیتا ہوں۔فرمایا کہ: جان لو کہ دنیا کی زندگی محض کھیل کود اور نفس کی خواہشات کو پورا کرنے کا ایسا ذریعہ ہے جو اعلیٰ مقصد سے غافل کر دے اور سج دھج اور با ہم ایک دوسرے پر فخر کرنا ہے اور اموال اور اولاد میں ایک دوسرے سے بڑھنے کی کوشش کرنا ہے۔یہ زندگی اس بارش کی مثال کی طرح ہے جس کی روئیدگی کفار کے دلوں کو لبھاتی ہے۔پس وہ تیزی سے بڑھتی ہے۔پھر تو اسے زرد ہوتا ہوا دیکھتا ہے، پھر وہ ریزہ ریزہ ہو جاتی ہے۔اور آخرت میں سخت عذاب مقدر ہے۔نیز اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور رضوان بھی۔جبکہ دنیا کی زندگی تو محض دھو کے کا ایک عارضی سامان ہے۔اور اگلی آیت میں فرمایا کہ اپنے رب کی مغفرت کی طرف ایک دوسرے سے آگے بڑھو اور اس جنت کی طرف بھی جس کی وسعت آسمان اور زمین کی وسعت کی طرح ہے جو ان لوگوں کے لئے تیار کی گئی ہے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں۔یہ اللہ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور اللہ عظیم فضل والا ہے۔جو لوگ اپنے اعمال کی فکر نہیں کرتے مرنے کے بعد ان کے اعمال کی کھیتی انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتی یعنی فرمایا تم سمجھتے ہو کہ اس دنیا میں صرف اس لئے آئے ہو کہ اس دنیا کے جو سامان ہیں اس دنیا